Skip to main content
Muhammad Sajid Qadri - Meethi Sohani Subah cover art

Muhammad Sajid Qadri - Meethi Sohani Subah

by Heera Gold

Album: Nasheeds

Duration: 9:57

Genre: nasheed, naatType: nasheed

Story & Cultural Context

Meethi Sohani Subah is a popular Urdu Islamic Naat Sharif recited by Muhammad Sajid Qadri, expressing devotion and praise for the Prophet Muhammad. Released and distributed under the Heera Gold label, a leading Pakistani Islamic content production house.

← Browse
Muhammad Sajid Qadri - Meethi Sohani Subah

Muhammad Sajid Qadri - Meethi Sohani Subah

AI-Enriched85%
Instruments
vocal-only

Credits

LabelHeera Gold

Story & Cultural Context

Meethi Sohani Subah is a popular Urdu Islamic Naat Sharif recited by Muhammad Sajid Qadri, expressing devotion and praise for the Prophet Muhammad. Released and distributed under the Heera Gold label,…

Titles in Other Languages

EnglishSweet and Pleasant Morning

Lyrics

بینی سوخہ سوخہ غم میں
تھنڈک جگر کی ہے
کلیوں کلی دلوں کی
ہوا یہ کدھر کی ہے
بینی سوخہ سوخہ غم میں
تھنڈک جگر کی ہے
ڈالے ہری ہری تو
بادے بھری بھری
کس عمل پری ہے
یہ بارش کدھر کی ہے
ہم گرد کعبہ پھرتے تھے
کل تک اور آج وہ
ہم پر نصار سے یہ
عادت کدھر کی ہے
میراج کا سفر ہے
کاغا پہنچ سائیوں
کرسی سے سوزی کن سے
اسفاق در کی ہے
کرسی سے سوزی کن سے
اسفاق در کی ہے
پرشاک روضہ سے ظاہرے
سوئے حرم چکے
اللہ جانتا ہے
کہ نیت ادھر کی ہے
اللہ جانتا ہے
کہ نیت ادھر کی ہے
یہ گھر یہ در ہے اسی کا
جو گھر در سے فاسد ہے
مشتاق بے گروں کو
کس آساں سے چھکر کی ہے
مشتاق بے گروں کو
کس آساں سے چھکر کی ہے
مہا گو میں
رب العرش ششے
اس سفر زففہ میں
پگلو میں جلوہ کا
عتیقو عمر کی ہے
پگلو میں جلوہ کا
عتیقو عمر کی ہے
ساغر ساغر کا
کراہت پگلو میں مغمی
ساغر ساغر کا
کراہت پگلو میں مغمی
جھرمٹ میں یہ ہے تارے
تجلی کمر کی ہے
جھرمٹ میں یہ ہے تارے
تجلی کمر کی ہے
کیوں تاجدار و خواب میں
دیکھی کبھی یہ شیخ
جو آج جھولیوں میں
گدایا نے در کی ہے
جو آج جھولیوں میں
گدایا نے در کی ہے
کعبہ ہے بے شک دلھن
آراد غم مگر
ساری بہار دلھنوں
دولا کے گھر کی ہے
ساری بہار دلھنوں
دولا کے گھر کی ہے
مفان غزالت کے دنبو
سورت لگی ہوئی
بندوں کا نیسو میں میرے
مادر پدر کی ہے
بندوں کا نیسو میں میرے
مادر پدر کی ہے
مگدا کفالت اٹھ بیری
داتا کی دین تھی
دوری قبول و عرض میں
بس خاط در کی ہے
سمزنگی وہ دیکھ بادر
شفاہت کے دے روا
یہ عاب روح رضا تیرے
دامان تر کی رہ گئے
یہ عاب روح رضا تیرے
دامان تر کی رہ گئے