Skip to main content
Taiba Ke Janay Walay cover art

Taiba Ke Janay Walay

by Amjad Sabri

Album: Nasheeds

Duration: 11:39

Genre: naat, nasheedType: nasheed

Story & Cultural Context

Taiba Ke Janay Walay is a renowned Urdu Naat famously performed by Amjad Sabri, expressively voicing devotion and yearning for the Holy City of Madinah (Taiba). It is widely appreciated across South Asia as a classic recited in traditional Qawwali and Naat gatherings.

← Browse
Taiba Ke Janay Walay

Taiba Ke Janay Walay

Nasheeds 11:39
AI-Enriched85%
Instruments
vocal-onlypercussionharmonium

Credits

LabelWithout label

Story & Cultural Context

Taiba Ke Janay Walay is a renowned Urdu Naat famously performed by Amjad Sabri, expressively voicing devotion and yearning for the Holy City of Madinah (Taiba). It is widely appreciated across South…

Titles in Other Languages

EnglishO Travelers to Taiba

Lyrics

اے جانے والے حاجی کر ہو مدینے جانا
اے جانے والے حاجی کر ہو مدینے جانا
امت کا ہلدارہ سرکار کو سنانا
اے باقی جانے والے جا کر ذرا عذب سے
میرا دل بھی سائے غم کہنا شاہ عرب سے
اے باقی جانے والے جا کر ذرا عذب سے
میرا دل بھی سائے غم کہنا شاہ عرب سے
بحرہ کے یا محمد ایک بے کسی کا مارا
بحرہ کے یا محمد ایک بے کسی کا مارا
ہوا ہوا ہے جس کی تبلیل کا ستارہ
ہوا ہوا ہے جس کی تبلیل کا ستارہ
حالات بھر علم سے اک دم گزر رہا ہے
حالات بھر علم سے اک دم گزر رہا ہے
اور کامتے رموں سے فریاض کر رہا ہے
بھرے گناہ اپنا ہے دوش پر اتھائے
کوئی نہیں ہے دہبر جو راستہ دکھائے
پھٹ کا ہوا مسافر منزل کو ڈھونٹا ہے
سینے میں ہے اندیرے دل ہے سیاہ آنا
یہ ہے میری کہانی سرکار کو سنانا
کہنا میرے نبی سے محروم ہوں خوشی سے
سرپرک قبر غم ہے عشقوں سے آنکھ نم ہے
معاملے زندگی ہوں سرکار امتی ہوں
امت کے رہنماؤں کچھ عرصے حال سن لو
پریاد کر رہا ہے یہ دل فیدار کب سے
میرا دل سائے ہم کہنا شاہ عرب سے
اے باقی جانے والے جا کر ذرا عدب سے
میرا دل سائے ہم کہنا شاہ عرب سے
اے باقی جانے والے
اے آدم مدینہ جا کر نبی سے کہنا
سوزے غم عالم سے اب جل رہا ہے سینا
کہنا کے بڑھ رہی ہے اب دل کی استرابی
بطنوں سے دور ہوں میں قسمت کی ہے خرابی
کہنا کے دل میں لاکھوں عرمان بھرے ہوئے ہیں
کہنا کے حسرتوں کے نشتل چھپے ہوئے ہیں
ہے عارضوں یہ دل کی میں بھی مدینہ جاؤں
سلطان دو جہاں کو یہ داغ دل دکھاؤں
کاٹوں ہزار چکر ماہ کی ہر گلی کے
یوں ہی گزار دوں میں ایام زندگی کے
پھولوں پہ جانے ساروں کاٹوں پہ دل کو ماروں
گلنوں کو دوں سلامی کرکی کروں گلابی
دیواروں دل کو چوموں قدموں میں سر کو رکھ دوں
محبوب سے لپٹ کر روتا رہوں برابر
عالم کے دل میں ہے یہ ہزنت ماجانے کب سے
میرا دل بھی سائے ہم کہنا شاہ عرب سے
اے باقی جانے والے جا کر ذرا عدم سے
میرا دل بھی سائے ہم کہنا شاہ عرب سے
اے باقی جانے والے
اے جانے والے
اے جانے والے
اے جانے والے
اے جانے والے
اے جانے والے حاجی کرو مدینے جانا