
Hafiz Tahir Qadri - Mein Madinay Chala - Heera Gold - Heart Touching Naat
by Heera Gold
Album: Nasheeds
Genre: nasheed, naat, madihYear: 2018Type: nasheedComposer: Hafiz Tahir Qadri
Story & Cultural Context
'Mein Madinay Chala' is a deeply emotional and renowned Urdu Naat recited by Hafiz Tahir Qadri expressing intense longing and devotion for visiting the holy city of Madinah. Published by Heera Gold, it remains one of the most widely recited and popular Naats across the South Asian Islamic community.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
ComposerHafiz Tahir Qadri
LyricistTraditional
ProducerHeera Gold
LabelHeera Gold
Story & Cultural Context
'Mein Madinay Chala' is a deeply emotional and renowned Urdu Naat recited by Hafiz Tahir Qadri expressing intense longing and devotion for visiting the holy city of Madinah. Published by Heera Gold,…
Titles in Other Languages
العربيةأنا ذاهب إلى المدينة
EnglishI Am Heading To Madinah
TürkçeMedine'ye Gidiyorum
Lyrics
میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، مدینے سے ملا ہمارا ہے میرا دل مجھ سے پہلے جا رہا ہے میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، ایک کرم ہو گیا میں مدینے چلا، ایک کرم ہو گیا میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، کیسا سوچا گیا میں مدینے چلا، کیسا سوچا گیا میں مدینے چلا، مست بے خود بنا میں مدینے چلا، مست بے خود بنا میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، سعادت کیسی آلف آ رہا ہوں، میرے یاروں ذرا مجھ کو سنبھالو، خوشی سے میں تو مچلا جا رہا ہوں، کیا بتاؤں ملی دل کو کیسی خوشی، جب یہ مجدہ سنا میں مدینے چلا، جب یہ مجدہ سنا، جب یہ مجدہ سنا، جب یہ مجدہ سنا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، ہم کو اپنی طلب سے سوا چاہیے، آپ جیسے ہے ویسی عطا چاہیے، کیوں کہوں یہ عطا وہ عطا چاہیے، تم کو معلوم ہے ہم کو کیا چاہیے، بھر کے جھولی میری میرے سرکار نے، مسکرا کر کہا اور کیا چاہیے، ہاتھ اٹھتے رہے مجھ کو دیتے رہے، وہ طلب سے سوا میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میرے سرکار نے، مسکرا کر کہا اور کیا چاہیے، تم کو معلوم ہے ہم کو کیا چاہیے، بھر کے جھولی میری میرے سرکار نے، تم چلو نہ چلو، میں چلا، میں چلا، میں چلا، میں چلا، میں چلا، تم چلو نہ چلو، میں چلا، میں چلا، میرے آقا کا در ہوگا پہلے نظر، چاہیے اور کیا میں مدینے چلا، چاہیے اور کیا، چاہیے اور کیا، چاہیے اور کیا، چاہیے اور کیا، میں مدینے چلا، چاہیے اور کیا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، سب گمبت خضرہ پہ وہ پہلی نظر گئی، آنکھوں کے راستے میرے دل میں اتر گئی، گمبت سبز پر جب پڑے گی نظر، کیا سرور آئے گا میں مدینے چلا، میرا مدینہ والا لینا پہ اتاریاں، کیا کرے گا ادھر باندھ رکھتے سفر، چل عبیدِ رضا میں مدینے چلا، چل عبیدِ رضا میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، مدینے چلا، لاج رکھنا خدا، میں مدینے چلا، لاج رکھنا خدا، میں مدینے چلا، میں مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا، مدینے چلا،