
Genre: nasheed, naatYear: 2016Type: nasheed
Story & Cultural Context
Jashn e Mustafa is an Urdu Naat performed by Nisar Marfaani celebrating the birth and life of the Prophet Muhammad. Released under Heera Gold in 2016, it is popular during Rabi al-Awwal and Mawlid gatherings.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
LabelHeera Gold
Story & Cultural Context
Jashn e Mustafa is an Urdu Naat performed by Nisar Marfaani celebrating the birth and life of the Prophet Muhammad. Released under Heera Gold in 2016, it is popular during Rabi al-Awwal and Mawlid…
Titles in Other Languages
العربيةجشن مصطفى
EnglishCelebration of the Chosen One
TürkçeMustafa'nın Kutlaması
Lyrics
سرکار کی آمد ماحبا دلدار کی آمد ماحبا حضور کی آمد ماحبا پور نور کی آمد ماحبا یاسی کی آمد ماحبا باہا کی آمد ماحبا وہ جشن مصطفیٰ ہے قادری و چشمی نقش بندی سوہو وردی سب نے جسے منایا وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے صدیق نے پکارا ہے وہ صادق الامی ہے فاروق نے پکارا انصاف کے دھنی ہے عثمان غنی پکارے انسا غنی نہیں ہے بولے علی وہ قوت وہی تو آخری ہے چاروں خلاصلوں کی یہی تو ابتداء ہے سب نے جسے منایا وہ جشن مصطفیٰ ہے پور نور ہے زمانہ صبح غیب سے نازل پردہ اٹھا ہے کس کا صبح غیب سے نازل جلوہ ہے حق کا جلوہ صبح غیب سے نازل سایا خدا کا سایا صبح غیب سے نازل سرکار کی آمد ماحبا دلدار کی آمد ماحبا حضور کی آمد ماحبا پور نور کی آمد ماحبا یاسی کی آمد ماحبا باہا کی آمد ماحبا قادری و چشمی نقشبندی سوہ وردی سب نے جسے منایا وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے عشق نبی کی اختیار ہو کر مثال دیجئے آپس کی رنجشوں کو بھل سے نکال دیجئے اہل طریقتوں نے پیغام یہ دیا ہے سرکار دو جہان کا ہر امتی بڑا ہے وہ سب پر آؤ فاجا سب کی ہی یہ عدہ ہے سب نے جسے منایا وہ جشن مصطفیٰ ہے آلم نے رخ بدلا صبح غیب سے نازل یوں گل امین نے گارا کعبے کی چھت پہ جھنڈا تھا ارشدہ ہریرا صبح غیب سے نازل سرکار کی آمد ماحبا دلدار کی آمد ماحبا حضور کی آمد ماحبا پور نور کی آمد ماحبا یاسی کی آمد ماحبا باہا کی آمد ماحبا قادری و چشمی نقشبندی سوہ وردی سب نے جسے منایا وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے اُن کے لیے خدا نے دونوں مقاصد سجائے شب سوہ کو مر ستارے جن سے جگمگائے جو نورِ کبریا کا آئینہ بن کے آئے اصحاب و آلیہ بھی اُن کے ہی زیر سائے دونوں جہاں کے والے محبوب کبریا ہے سب نے جسے منایا وہ جشن مصطفیٰ ہے دیہتے گئے ہمارے سوتے نصیب جاگے مرشید ہی وہ چمکا صبح غیب سے نازل پیارے نبی علور تیری جھلک کے صدقے چمکا دیا نصیبا صبح غیب سے نازل سرکار کی آمد ماحبا دلدار کی آمد ماحبا حضور کی آمد ماحبا پور نور کی آمد ماحبا یاسی کی آمد ماحبا باہا کی آمد ماحبا قادری و چشمی نقشبندی سوہ وردی سب نے جسے منایا وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے یہ عارضو میری ہے کوئی نہیں زباں میں قدموں میں مصطفیٰ کے گزرے زندگی میں رحمت بنا کے بیجا جن کو ہے کبریا نے ان پر نصار جائے مولا یہ معرفان یہی جنید افری نے بخشش کا ذرا ہے سب نے جسے منایا وہ جشن مصطفیٰ ہے دلہ بنا ان کو دولہ بنا ان کو ہے عرشت کی شواں صبح غیب سے نازل باتا ہے دو جہاں میں تونے دیا کبھارا دے دے حسن کا حصہ صبح غیب سے نازل سرکار کی آمد ماحبا دلدار کی آمد ماحبا حضور کی آمد ماحبا پور نور کی آمد ماحبا یاسی کی آمد ماحبا باہا کی آمد ماحبا وہ قادری و چشمی نقش بندی سوہ وردی سب نے جسے منایا وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے وہ جشن مصطفیٰ ہے