Skip to main content
Kiya Khabar Kia Saza cover art

Kiya Khabar Kia Saza

by Hafiz Tahir Qadri

Album: Nasheeds

Duration: 9:59

Genre: nasheed, naat, hamdYear: 2018Type: nasheed

Story & Cultural Context

Kiya Khabar Kia Saza is an emotional Urdu kalam/nasheed recited by Hafiz Tahir Qadri. The track focuses on themes of repentance, spiritual reflection, and seeking divine forgiveness for one's shortcomings.

← Browse
Kiya Khabar Kia Saza

Kiya Khabar Kia Saza

Nasheeds 9:59 2018
AI-Enriched80%
Instruments
vocal-only

Story & Cultural Context

Kiya Khabar Kia Saza is an emotional Urdu kalam/nasheed recited by Hafiz Tahir Qadri. The track focuses on themes of repentance, spiritual reflection, and seeking divine forgiveness for one's…

Titles in Other Languages

EnglishWhat Knowledge of What Punishment

Lyrics

آقا آقا آقا آقا آقا آقا آقا آقا آقا آقا آقا مدین والے آقا میرے آقا میری سب فچا سے میرے آقا میری سب فچا سے کیا خبر کیا سزا مجھے کو سب ملی کیا خبر کیا سزا مجھے کو سب ملی میرے آقا نے سب فچا سے میرے آقا نے سب فچا سے بووتا پڑتا کرنے والے اور ہم بھی نہیں چلنے والے بووتا پڑتا کرنے والے اور ہم بھی نہیں چلنے والے جب سے یو میں گناہ سے فاصل جب سے یو میں گناہ سے فاصل میرے آقا نے سب فچا سے میرے آقا نے سب فچا سے میں گدا ہوں مدینہ تا وہ جو خز دا نہیں کونو مکا ہے میں گدا ہوں مدینہ تا وہ جو خز دا نہیں کونو مکا ہے میرے آقا نے بڑی مجھ پر نبی ہے میرے آقا نے بڑی مجھ پر نبی ہے میرے سب پے غاجی بنالی میرے سب پے غاجی بنالی مدینہ والے میرے آقا نے سب فچا سے میرے آقا نے سب فچا سے میری عمر میں بس ایک ہی جا آپ سے سو سویر کی تم نہ گئی ہے میری عمر میں بس ایک ہی جا آپ سے سو سویر کی تم نہ گئی ہے ان کے کرموں میں میری جبلی ہے اور آقا میں واقعی پجالی میرے آقا نے سب فچا سے میرے آقا نے سب فچا سے میں مدینہ سے کیا بسا ہوں سنزا دی سے مجھ سے ہی گئی ہے میں مدینہ سے کیا بسا ہوں سنزا دی سے مجھ سے ہی گئی ہے دردے یار میں جاں فزا ساری دردے یار میں جاں فزا ساری دردے بادے افا افا لی کیا خبر کیا سزا مجھے کو سب ملی کیا خبر کیا سزا مجھے کو سب ملی میرے آقا نے سب فچا سے میرے آقا نے سب فچا سے میں فاطتِ نام لے واہونتا ان کی قاسی میں جاں سب لے دا میں فاطتِ نام لے واہونتا ان کی قاسی میں جاں سب لے دا میں نا اتبار اس میں فاصل میں نا خود سے ہی نہ جانوں دینہ دا لیا خبر کیا سزا مجھے کو سب ملی کیا خبر کیا سزا مجھے کو سب ملی میرے آقا نے سب فچا سے میرے آقا نے سب فچا سے میرے آقا نے سب فچا سے میرے آقا نے سب فچا سے