Skip to main content
Rung Jaa cover art

Rung Jaa

by Nisar Marfani

Album: Nasheeds

Duration: 6:25

Genre: nasheed, naat, madihYear: 2015Type: nasheed

Story & Cultural Context

'Rung Jaa' is a soulful Urdu Sufi Naat performed by Nisar Marfani, expressing devotion and longing for spiritual absorption in Divine love and the love of Prophet Muhammad. The track is widely popular among South Asian Naat listeners for its emotive vocal delivery and traditional melody.

← Browse
Rung Jaa

Rung Jaa

Nasheeds 6:25 2015
AI-Enriched80%
Instruments
vocal-onlyduff

Credits

LyricistTraditional
LabelWithout label

Story & Cultural Context

'Rung Jaa' is a soulful Urdu Sufi Naat performed by Nisar Marfani, expressing devotion and longing for spiritual absorption in Divine love and the love of Prophet Muhammad. The track is widely popular…

Titles in Other Languages

EnglishColor Yourself (In Divine Love)

Lyrics

جاگ جائے میری حسرتیں, میری ہاں تجھے مرے انگ میں. جب تیرا تصور ہو نہ ہو دوسرا کوئی سمجھ میں. تیرا عشق سما جائے میری روح میرے انگ میں. جاگ جائے میری حسرتیں, میری ہاں تجھے مرے انگ میں. بھر آشق ندامت سے دامن میرا دھل جائے. بوجا میں عطا کر دے نفس میں جو بھر جائے. دیدار کی حسرت بھی یوں ہت سے دھل جائے. جب بند کروں آکے آنکھوں میں اتر جائے. جاگ جائے میری حسرتیں, میری ہاں تجھے مرے انگ میں. جب تیرا تصور ہو نہ ہو دوسرا کوئی سمجھ میں. تیرا عشق سما جائے میری روح میرے انگ میں. جاگ جائے میری حسرتیں, میری ہاں تجھے مرے انگ میں. عقل آتمو نواں مال بے روحو. اس اسلام کی خدمت میں قربان میرا تن ہو. جب دینے کی عزمت کا کوئی کام لیا جائے. تیرے نام کی نسبت سے میرا نام لیا جائے. جاگ جائے میری حسرتیں, میری ہاں تجھے مرے انگ میں. بہززی بات کروں مجھے سر جھکا جاؤں. جب بھوک لگے مجھے کھوں میں صدقہ تیرا کھاؤں. مل جائے فراہد ایسی دیوانگی کی صفت میں. میں شہور رہوں ہر دم سرکار کی مدھ میں. جاگ جائے میری حسرتیں, میری ہاں تجھے مرے انگ میں. دیوانے محبتوں ہو دربار میرا مہکے. ایمان کی خوشبو سے کردار میرا مہکے. جو تجھ سے جڑ کے دوری بسر سے شجاعت ہو. فتح ہو جسے مجھ سے مجے کل فتح ہو. جاگ جائے میری حسرتیں, میری ہاں تجھے مرے انگ میں. بس تیجی بات کروں مجھے سر جھکا جاؤں. جب بھوک لگے مجھے کھوں میں صدقہ تیرا کھاؤں. مل جائے فراہد ایسی دیوانگی کی صفت میں. میں شہور رہوں ہر دم سرکار کی مدھ میں. جاگ جائے میری حسرتیں, میری ہاں تجھے مرے انگ میں.