Skip to main content
Kashif Raza Qadri - Ik Nojawan Ki Kahani Suno cover art

Kashif Raza Qadri - Ik Nojawan Ki Kahani Suno

by Heera Gold

Album: Nasheeds

Duration: 9:55

Genre: nasheed, naatYear: 2018Type: nasheed

Story & Cultural Context

'Ik Nojawan Ki Kahani Suno' is an Urdu Islamic nasheed/kalam recited by Kashif Raza Qadri and released under Heera Gold. It narrates a moral and emotional story of a youth, serving as an Islamic reminder and reflection for listeners.

← Browse
Kashif Raza Qadri - Ik Nojawan Ki Kahani Suno

Kashif Raza Qadri - Ik Nojawan Ki Kahani Suno

Nasheeds 9:55 2018
AI-Enriched80%
Instruments
vocal-only

Credits

ProducerHeera Gold
LabelHeera Gold

Story & Cultural Context

'Ik Nojawan Ki Kahani Suno' is an Urdu Islamic nasheed/kalam recited by Kashif Raza Qadri and released under Heera Gold. It narrates a moral and emotional story of a youth, serving as an Islamic…

Titles in Other Languages

EnglishListen to the Story of a Young Man

Lyrics

سنو سنو سنو ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا کتنی بھی وانی ہے یہ جوانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا ایک بات پیا سنا تمہیں نو جوان کا اے نو جوان دین کی باتوں سے دور تھا شیطان کے وارے میں ہر دم بزا ہوا کتنی گناہوں میں تھی روانی سنو ذرا کتنی گناہوں میں تھی روانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا کتنی دیوانی ہے یہ جوانی سنو ذرا کتنی دیوانی ہے یہ جوانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا ایک روز اس کے بات میں انگڑائی لی زرا ایک روز کے ایک بندہ زرا میں ملا بشیر سلام کی آنو جوان کو جاری پھر اس کے بعد کیوں بیان کو اے نو جوان تو انو سلمان جان لو روزہ نماز فرض ہے تم پر ایمان لو چھوڑو شراب نوشی کے تم پر حرام ہے میرا نہیں یہ میرے نبی کا قیام ہے علموں کا سر دے کے دعوت پھر سے لی اور دین کچھ کتب پے کے جا کر انہیں پڑے باتیں جوان نے مانے نہ مانے سنو ذرا باتیں جوان نے مانے نہ مانے سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا کتنی دیوانی ہے یہ جوانی سنو ذرا کتنی دیوانی ہے یہ جوانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا لے کر کتاب گھر کی طرف وہ گیا روان جب وہ ٹھوکر گجہ تب ہی وہ گر پڑا کہاں گر کو کتابیں رکھی اور بیٹے بھی گیا اس طلفے اپنی سونے خوابے بھی گیا سوچا تو زندہ آج ملا مجھ کو راہ میں آیا خیال ان کا میں تو فاغو دیکھ لوں لائیا غجو کتاب بھلا ان کو دیکھ لوں پڑھنے لگا کتاب تو ایسا اثر ہوا ایسا خوشی سے اپنے وہ پھر بے خبر ہوا بندہ بنوں گا رب کی یہ ٹھانی سنو ذرا بندہ بنوں گا رب کی یہ ٹھانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا کتنی دیوانی ہے یہ جوانی سنو ذرا کتنی دیوانی ہے یہ جوانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا اٹھا جوان غصل کیا اور کیا بزو وقت فجل خدا سے موافنے روبرو اللہ اکبر اللہ اکبر کرنے لگا وہ فرض اللہ کا ادا غرصوں نے تیرے سے لگا پاپن تو ہو گیا جو بھی برا عمل تھا اسے ترک کر دیا بینگا جہاں بکر نبی ذکر رب دیا ہوئی بس توئی پاک نہ چوری شراب سے کرنے لگا انا جوان بجاب سے رب کے کرم سے ایسی ہدایت عطا ہوئی اس نو جوان سے کلتاب بنی یہ فتاب ہوئی اب اوج پر ہے اس کی جوانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا کتنی دیوانی ہے یہ جوانی سنو ذرا کتنی دیوانی ہے یہ جوانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا یارب تجھے واسطہ خیر الانام کا ولیوں کا واسطہ تجھے اپنے کلام کا اس نو جوان کو پھر سے ہدایت عطا ہوئی جیسی حسین اور مسارہ عطا ہوئی ارنو جوان کو تو میرے ایسا بنا دیں گمراحتوں کو دنیا کے رستے چلا دیں سوتے تو پھر سے غافلت دور کر دے تو ہم سے ہر ایک زکروں جو نو جوان برا ہو اسے اچھا بنا دیں جیسا تجھے پسند ہے وہ بندہ بنا دیں اے آفز کی دعا یہ پرانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا کتنی دیوانی ہے یہ جوانی سنو ذرا کتنی دیوانی ہے یہ جوانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا ایک نوجوان کی ہے یہ کہانی سنو ذرا سنو سنو سنو سنو سنو سنو