Skip to main content
Apki Natain cover art

Apki Natain

by Heera Gold

Album: Nasheeds

Duration: 10:44

Genre: nasheed, naatYear: 2017Type: nasheed

Story & Cultural Context

A popular Urdu Naat performed by Anas Younus and released by Heera Gold. The track consists of vocal praises dedicated to the Prophet Muhammad, presented in traditional South Asian Naat recitation style.

← Browse
Apki Natain

Apki Natain

Nasheeds 10:44 2017
AI-Enriched85%
Instruments
vocal-only

Credits

LabelHeera Gold

Story & Cultural Context

A popular Urdu Naat performed by Anas Younus and released by Heera Gold. The track consists of vocal praises dedicated to the Prophet Muhammad, presented in traditional South Asian Naat recitation…

Titles in Other Languages

EnglishApki Natain

Lyrics

أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم
لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة لمن كان يرجو الله واليوم الآخر وذكر الله كثيرا
أبكي ناتم لك لكتنصنعو أبتو
اسطرارازي كركس منا أبتو
أبكي ناتم لك لكتنصنعو أبتو
اسطرارازي كركس منا أبتو
أبتو راضي نكر بايا تمرداوم غمي
شوتي شوتي كيوجيا بنكر بخر جاوم غمي
زندگي كا اسطرامو جو مزا كا عايغا
دل سياهي كي ببر مي دوبتا ره جايغا
باسطا دو أبتو مي أبكي حسنين كا
يارغار سوركاسم ديكا كونين كا
باسطا دو أبتو مي أبكي حسنين كا
يارغار سوركاسم ديكا كونين كا
أبتو دشمن كي حق مي بي دوا كرت ره
بيوفا لوغو سي بي هردم وفا كرت ره
أبتو رحمة هي رحمة هي جهانوں كي نيه
مير جيسي بيعمل اور بيهتكانوں كي نيه
أبكا هر روٹھی نا هر زو سما کا روٹھی نا
عرش کا سارے جہانوں کے خدا کا روٹھی نا
أبکا هر روٹھی نا هر زو سما کا روٹھی نا
عرش کا سارے جہانوں کے خدا کا روٹھی نا
أبکی نظروں سے جو گرتاں گے مر جاتا گے وہ
راکھ بن کر اپنے قدموں میں بکھر جاتا گے وہ
اس طرح تو آدمی خود آدمی رہتا نہیں
صاحب ایمان کیا انسان بھی رہتا نہیں
کسے کسے دشمنوں پر رحم کھایا آپ نے
آگ سے کتنے ہی لوگوں کو بچایا آپ نے
کسے کسے دشمنوں پر رحم کھایا آپ نے
آگ سے کتنے ہی لوگوں کو بچایا آپ نے
اپنے جوتوں اپنے سایے میں بٹھا دیجئے مجھے
آپ کا ناچیز خادم ہوں دعا دیجئے مجھے
زندگی کی تیز لہروں میں نہ بھجاؤں کہیں
گرد بن کر راستے ہی میں نہ رہ جاؤں کہیں
آپ کو خاتون جنت اور علی کا واسطہ
آپ کو فاروق عثمان غنی کا واسطہ
آپ کو خاتون جنت اور علی کا واسطہ
آپ کو فاروق عثمان غنی کا واسطہ
زندگی کو ایک بہت مشکل سفر درپیش ہے
ایک مشکل امتحاب آرے دگر درپیش ہے
سوچ میں ڈوبا ہوا ہوں سوچ ہی میں قید ہوں
بے بسی میں پھرے ہوئے ہیں بے بسی میں قید ہوں
ٹوٹتے جاتے ہیں سارے آسیرے جتنے بھی ہیں
بے اثر ہیں لوگ سب چھوٹے بڑے جتنے بھی ہیں
ٹوٹتے جاتے ہیں سارے آسیرے جتنے بھی ہیں
بے اثر ہیں لوگ سب چھوٹے بڑے جتنے بھی ہیں
اس قدر کتنا ضروری ہے سہارا آپ کا
میری قسمت ہی بدل دے گا اشارہ آپ کا
لوگ اکثر شاعر اصحاب کہتے ہیں مجھے
ان کی خاطر روز شب بیتاب کہتے ہیں مجھے
بے عمل ہوں مغفرت کا ایک سہارا ہے ضرور
آپ کا ہر ایک صحابی جان سے پیارا ہے ضرور
بے عمل ہوں مغفرت کا ایک سہارا ہے ضرور
آپ کا ہر ایک صحابی جان سے پیارا ہے ضرور
میں نے مختص کر لی اپنی چشم تر ان کے لیے
مسترد رہتا ہوں میں شام و سہر ان کے لیے
میں نہ سرمد ہوں نہ مجنو ہوں نہ میں منصور ہوں
ان کا شاعر اور ان کا بندہ مزدور ہوں
میری خواہش ہے ہمیشہ خوبیاں لکھتا رہوں
شوق سے میں آسمان کو آسمان لکھتا رہوں
میری خواہش ہے کہ ان کی خوبیاں لکھتا رہوں
شوق سے میں آسمان کو آسمان لکھتا رہوں
ان کے صدقے آپ مجھ پر مہربانی کیجئے
میرے حال زار پر آقا توجہ دیجئے
آپ سے رشتہ غلامی کا صدا قائم رہے
خاجگی اور بندگی کی یہ فضاء قائم رہے
میرے سر پر مشکلوں کا آسمان گرنے کو ہے
ذر ہے ناچیز پر کوہے گرا گرنے کو ہے
میرے سر پر مشکلوں کا آسمان گرنے کو ہے
ذر ہے ناچیز پر کوہے گرا گرنے کو ہے
حب اندھیرے میں کھڑا ہوں اے حرا کے آفتاب
پرزا پرزا ہو رہیں گے میرے خوشیوں کی کتاب
میرے حق میں اپنے خالق سے دعا فرمائیے
اے میرے آقا کرم کی انتہا فرمائیے
دیکھتے ہیں تو مجھے بے آسرا کہتے ہیں لوگ
اہب ماضی کی کوئی بھولی صدا کہتے ہیں لوگ
دیکھتے ہیں تو مجھے بے آسرا کہتے ہیں لوگ
اہب ماضی کی کوئی بھولی صدا کہتے ہیں لوگ
اس طرح روکوں میں توفان اور سلاب کو
سہنے سے کیسے نکالوں خوفناک عذاب کو
میری اپنی سانسے بھی اب تو میرے بس میں نہیں
تھک گئی ہیں چلتے چلتے اب میری لوہ جبین
دیکھ کر دشوار راہیں زندگی گھبرا گئی
میرے گھر تک آتے آتے روشنی گھبرا گئی
دیکھ کر دشوار راہیں زندگی گھبرا گئی
میرے گھر تک آتے آتے روشنی گھبرا گئی
سبز گمبد کی طرف اٹھتی ہیں نظریں بار بار
آپ کی رحمت کو دیتا ہے صدا یہ خاک سار
خالقِ ارض و سما سے اب دعا کیجئے حضور
محربان ہو جائیں مجھ آسیفِ اب رب غفور
میری حمد سے زیادہ ہے پریشانی کا بوجھ
میں اٹھا سکتا نہیں اپنے تن فانی کا بوجھ
راغم چلتے ہوئے اب لڑکھڑا جاتا ہوں میں
سانس لینے پر بھی اب تو ڈگمگا جاتا ہوں میں
لبحیلا دیجئے میری خاطر دعا کے واسطے
رحم فرما دیجئے مجھ پر خدا کے واسطے
لبحیلا دیجئے میری خاطر دعا کے واسطے
رحم فرما دیجئے مجھ پر خدا کے واسطے
آپ کی ناتم لکھ لکھ کر سنا ہوں آپ کو
کس طرح راضی کروں کیسے منا ہوں آپ کو
آپ کی ناتم لکھ لکھ کر سنا ہوں آپ کو
کس طرح راضی کروں کیسے منا ہوں آپ کو