Skip to main content
Taiba K Janay Walay cover art

Taiba K Janay Walay

by Amjad Fareed Sabri

Album: Nasheeds

Duration: 8:08

Genre: naat, nasheedYear: 2016Type: nasheedComposer: Maqbool Ahmed Sabri

Story & Cultural Context

A renowned Urdu Naat recited by Amjad Fareed Sabri, addressing the pilgrims traveling to the holy city of Madina (Taiba). Rooted in the rich Qawwali and devotional tradition of the Sabri family, it remains a timeless classic expressing love for Prophet Muhammad.

← Browse
Taiba K Janay Walay

Taiba K Janay Walay

Nasheeds 8:08 2016
AI-Enriched85%
Instruments
harmoniumpercussion

Credits

ComposerMaqbool Ahmed Sabri
LyricistTraditional

Story & Cultural Context

A renowned Urdu Naat recited by Amjad Fareed Sabri, addressing the pilgrims traveling to the holy city of Madina (Taiba). Rooted in the rich Qawwali and devotional tradition of the Sabri family, it…

Titles in Other Languages

العربيةيا ذاهبين إلى طيبة
EnglishO Travelers Heading to Taiba
TürkçeTaybe'ye Gidenler

Lyrics

اے جانے والے حاجی اگر ہو مدین جانا امت کا ہنسارا سرکار کو سنانا طیبہ کے جانے والے جا کر ذرا عدب سے میرا بھی قصہ غم کہنا شہ عرب سے طیبہ کے جانے والے کہنا کہ یا محمد اک بے کسی کا مارا ڈوبا ہوا ہے جس کی تقدیر کا ستارا حالات پر علم سے ہر دم گزر رہا ہے اور کافتے لبوں سے فریاد کر رہا ہے بارے گناہ اپنا ہے دوش فر اٹھائے کوئی نہیں ہے رہبر جو راستہ دکھائے بٹکا ہوا مسافر منزل کو ڈھونڈتا ہے تاریکیوں میں ماہ کامل کو ڈھونڈتا ہے سینے میں ہیں اندھیرے دل ہے سیاہ خانہ یہ ہے میری کہانی سرکار کو سنانا کہنا میرے نبی سے محروم ہوں خوشی سے سر پر اک عبر غم ہے عشقوں سے آنکھ نم ہے پامال زندگی ہوں سرکار مہدی ہوں امت کے رنما ہوں کچھ عرض حال سن لو فریاد کر رہا ہے یہ دل فگار کب سے میرا بھی قصہ غم کہنا شہر عرب سے طیبہ کے جانے والے جا کر ذرا عدب سے کہنا کہ کھا رہا ہوں میں ٹھوکری جہاں میں تم ہی بتاؤ آقا جاؤں بھلا کہاں محسوس کر رہا ہوں دنیا ہے دھوکہ مطلب کے یار ہے سب کوئی نہیں کسی کا کس کو میں اپنا جانوں کس کا میں نوں سہارا مجھ کو تو یا محمد ہے آسرا تمہارا تم ہی سنوگے میری تم ہی کرم کروگے دونوں جہاں میں تم ہی میرا بھرم رکھوگے تم بادشاہ عالم میں اک نصیب برہم تم بے قصوں کے والی میں بے نوا سوالی تم آسروں کا یارا میں گردشوں کا مارا رحمت ہو تم سرابا میں مرتقب خطا کا ہو شرم سار رب نے آمال کے سبب سے میرا بھی قصہ غم کہنا شہر عرب سے طیبہ کے جانے والے جا کر ذرا عدب سے ہے آزوں میں مدینہ جا کر نبی سے کہنا سوزے غمِ علم سے اب جل رہا ہے سینہ کہنا کہ دل میں لاکھوں ارماں مچل رہے ہیں کہنا کہ حسرتوں کے نشتر چھبے ہوئے ہیں ہے عرضو یہ دل کی میں بھی مدینہ جاؤں سلطان دو جہاں کو سب داغ دل دکھاؤں کاتوں ہزار چکر قیبہ کی ہر گلی کے یوں ہی گزار دوں میں ایام زندگی کے پھولوں پہ جاں نساروں کانٹوں پہ دل کو باروں زروں کو دوں سلامی در کی کروں غلامی دیواروں در کو چوموں قدموں پہ سر کو رکھ دوں محبوب سے لپٹ کر روتا رہوں برابر عالم کے دل میں ہے یہ حسرت نہ جانے کب سے عالم کے دل میں ہے یہ حسرت نہ جانے کب سے میرا بھی قصہ غم کہنا شہر عرب سے قیبہ کے جانے والے جا کر ذرا عدب سے میرا بھی قصہ غم کہنا شہر عرب سے قیبہ کے جانے والے قیبہ کے جانے والے حاجی قیبہ کے جانے والے حاجی قیبہ کے جانے والے