
Genre: nasheed, naat, madihYear: 2017Type: nasheed
Story & Cultural Context
'Ab Toh Bus' (often rendered as 'Ab To Bas Ek Hi Dhun Hai') is a beloved Urdu Naat expressing intense longing to visit the holy city of Madinah. Recited by Al-Haj Wajid Ali Qadri and released by Heera Gold, it remains a classic devotional recitation popular across South Asia.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
LyricistBedam Shah Warsi
ProducerHeera Gold
LabelHeera Gold
Story & Cultural Context
'Ab Toh Bus' (often rendered as 'Ab To Bas Ek Hi Dhun Hai') is a beloved Urdu Naat expressing intense longing to visit the holy city of Madinah. Recited by Al-Haj Wajid Ali Qadri and released by Heera…
Titles in Other Languages
العربيةأب تو بس
EnglishNow My Only Desire (Madinah)
Lyrics
اللہ کا گھر کھل دکھانا کشاں نہیں دیکھا کچھ بھی نہیں دیکھا جمدینا نہیں دیکھا اے موت میری موت ذرا تہہر جا میں نے ابھی سرکار کا روزہ نہیں دیکھا اب تو بس ایک ہی دھون ہے جمدینا دیکھوں اب تو بس ایک ہی دھون ہے جمدینا دیکھوں آخری وقت میں کیا رونق دنیا دیکھوں اب تو بس ایک ہی دھون ہے جمدینا دیکھوں اب تو بس ایک ہی دھون ہے اس نے بھی مدینہ دیکھ لیا سرکار کبھی تو میں بھی کہوں میں نے بھی مدینہ دیکھ لیا اب تو بس ایک ہی دھون ہے جمدینا دیکھوں مجھ کو مجبوریاں تے دوریاں نے ماریا صدق لو مدینہ آقا کرو مہربانیاں دادا غریب آقا پول میرے ذہنیں اڑھ کے میں کیوے آما نال میرے پر نہیں اتسا توں ڈیرہ میں توں بڑی دور لا لیا صدق لو مدینہ آقا صدق لو مدینہ آقا کرو مہربانیاں اب تو بس ایک ہی دھون ہے جمدینا دیکھوں اب تو بس ایک ہی دھون ہے میں کہاں ہوں یہ سمجھ لو توں اٹھاؤں نظرے میں کہاں ہوں یہ سمجھ لو توں اٹھاؤں نظرے دل ذرا سنبھل لے تو پھر جانب طیبہ دیکھوں مولا دل ذرا سنبھل لے تو پھر جانب طیبہ دیکھوں اب تو بس ایک ہی دھون ہے جمدینا دیکھوں اب تو بس ایک ہی دھون ہے بلالوں پھر مجھے شاغ مغرب مدینہ میں میں پھر روتا ہوا ہوں تیرے در پر مدینہ میں بلالوں ہم غریبوں کو بلالوں یا رسول اللہ ہم کو بلالا یا رسول اللہ بارستی گمب دے خضرا سے ٹکراتی ہووی بوندے وہاں پر شاند سے بارش ورسنا ہم بھی دیکھیں گے ہمیں بلوائیں گے آقا مدینہ ہم بھی دیکھیں گے ہم کو بلالا یا رسول اللہ مدینہ کبھی تو سبز گمبد کا نظارہ ہم بھی دیکھیں گے ہمیں بلوائیں گے آقا مدینہ ہم بھی دیکھیں گے اب تو بس ایک ہی دھون ہے اب تو بس ایک ہی دھون ہے کوئی تو آکھوالا گزرے گا اس طرف سے سہباز راستے میں میں منتظر کھڑا ہوں میرے مولا میری آنکھیں مجھے واپس کر دے میرے مولا میری آنکھیں مجھے واپس کر دے تاکہ اس بار میں جی بھر کے مدینہ دیکھوں مولا تاکہ اس بار میں جی بھر کے مدینہ دیکھوں مولا اب تو بس ایک ہی دھون ہے اب تو بس ایک ہی دھون ہے اقبال مجھ کو اب بھی محسوس ہو رہا ہے کہ روزے کے سامنے ہوں اور نات پڑھ رہا ہوں کاش اقبال یوگی عمر بسر ہو میری کاش اقبال یوگی عمر بسر ہو میری صبح شام کو تیبہ دیکھوں مولا صبح شام کو تیبہ دیکھوں مولا اب تو بس ایک ہی دھون ہے اب تو بس ایک ہی دھون ہے