Skip to main content
Ab Toh Bus cover art

Ab Toh Bus

by Wajid Ali Qadri

Album: Nasheeds

Duration: 10:24

Genre: nasheed, naatType: nasheed

Story & Cultural Context

A classic Urdu naat praising Prophet Muhammad (PBUH), popularly recited in traditional vocal style by Pakistani naat khawan Wajid Ali Qadri.

← Browse
Ab Toh Bus

Ab Toh Bus

Nasheeds 10:24
AI-Enriched70%
Instruments
vocal-only

Story & Cultural Context

A classic Urdu naat praising Prophet Muhammad (PBUH), popularly recited in traditional vocal style by Pakistani naat khawan Wajid Ali Qadri.

Titles in Other Languages

EnglishAb Toh Bus Faqat Allah Se

Lyrics

اللہ کا گھر کھل دکھانا کشاں نہیں دیکھا کچھ بھی نہیں دیکھا جمدینا نہیں دیکھا اے موت میری موت ذرا تہہر جا میں نے ابھی سرکار کا روزہ نہیں دیکھا اب تو بس ایک ہی دھون ہے جمدینا دیکھوں اب تو بس ایک ہی دھون ہے جمدینا دیکھوں آخری وقت میں کیا رونق دنیا دیکھوں اب تو بس ایک ہی دھون ہے جمدینا دیکھوں اب تو بس ایک ہی دھون ہے اس نے بھی مدینہ دیکھ لیا سرکار کبھی تو میں بھی کہوں میں نے بھی مدینہ دیکھ لیا اب تو بس ایک ہی دھون ہے جمدینا دیکھوں مجھ کو مجبوریاں تے دوریاں نے ماریا صدق لو مدینہ آقا کرو مہربانیاں دادا غریب آقا پول میرے ذہنیں اڑھ کے میں کیوے آما نال میرے پر نہیں اتسا توں ڈیرہ میں توں بڑی دور لا لیا صدق لو مدینہ آقا صدق لو مدینہ آقا کرو مہربانیاں اب تو بس ایک ہی دھون ہے جمدینا دیکھوں اب تو بس ایک ہی دھون ہے میں کہاں ہوں یہ سمجھ لو توں اٹھاؤں نظرے میں کہاں ہوں یہ سمجھ لو توں اٹھاؤں نظرے دل ذرا سنبھل لے تو پھر جانب طیبہ دیکھوں مولا دل ذرا سنبھل لے تو پھر جانب طیبہ دیکھوں اب تو بس ایک ہی دھون ہے جمدینا دیکھوں اب تو بس ایک ہی دھون ہے بلالوں پھر مجھے شاغ مغرب مدینہ میں میں پھر روتا ہوا ہوں تیرے در پر مدینہ میں بلالوں ہم غریبوں کو بلالوں یا رسول اللہ ہم کو بلالا یا رسول اللہ بارستی گمب دے خضرا سے ٹکراتی ہووی بوندے وہاں پر شاند سے بارش ورسنا ہم بھی دیکھیں گے ہمیں بلوائیں گے آقا مدینہ ہم بھی دیکھیں گے ہم کو بلالا یا رسول اللہ مدینہ کبھی تو سبز گمبد کا نظارہ ہم بھی دیکھیں گے ہمیں بلوائیں گے آقا مدینہ ہم بھی دیکھیں گے اب تو بس ایک ہی دھون ہے اب تو بس ایک ہی دھون ہے کوئی تو آکھوالا گزرے گا اس طرف سے سہباز راستے میں میں منتظر کھڑا ہوں میرے مولا میری آنکھیں مجھے واپس کر دے میرے مولا میری آنکھیں مجھے واپس کر دے تاکہ اس بار میں جی بھر کے مدینہ دیکھوں مولا تاکہ اس بار میں جی بھر کے مدینہ دیکھوں مولا اب تو بس ایک ہی دھون ہے اب تو بس ایک ہی دھون ہے اقبال مجھ کو اب بھی محسوس ہو رہا ہے کہ روزے کے سامنے ہوں اور نات پڑھ رہا ہوں کاش اقبال یوگی عمر بسر ہو میری کاش اقبال یوگی عمر بسر ہو میری صبح شام کو تیبہ دیکھوں مولا صبح شام کو تیبہ دیکھوں مولا اب تو بس ایک ہی دھون ہے
اب تو بس ایک ہی دھون ہے