Skip to main content
Jahan Roza E Pak cover art

Jahan Roza E Pak

by Heera Gold

Album: Nasheeds

Duration: 7:19

Genre: naat, nasheedYear: 2018Type: nasheed

Story & Cultural Context

Jahan Roza E Pak is an Urdu Naat recited by Muhammad Abu Bakar Qadri and released by Heera Gold. The poem expresses deep yearning and reverence for visiting the sacred shrine of the Prophet Muhammad in Madinah.

← Browse
Jahan Roza E Pak

Jahan Roza E Pak

Nasheeds 7:19 2018
AI-Enriched85%
Instruments
vocal-onlypercussion

Credits

ProducerHeera Gold
LabelHeera Gold

Story & Cultural Context

Jahan Roza E Pak is an Urdu Naat recited by Muhammad Abu Bakar Qadri and released by Heera Gold. The poem expresses deep yearning and reverence for visiting the sacred shrine of the Prophet Muhammad…

Titles in Other Languages

العربيةجهان روضه پاک
EnglishWhere the Holy Shrine Is
TürkçeKutsal Türbenin Olduğu Yer

Lyrics

جہاں روزِ پاکِ خیرُ البرا ہے
وہ جنت دگی ہے تو پھر اور کیا ہے
کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں
یہ قسمت رہی ہے تو پھر اور کیا ہے
محمد کی عظمت کو کیا پوچھتے ہو
وہ صاحبِ قابعہ کو سینٹھیڑے
محمد کی عظمت کو کیا پوچھتے ہو
وہ صاحبِ قابعہ کو سینٹھیڑے
سرِ عرش آقا کی مہمانوازی
یہ عظمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
جہاں روزِ پاکِ خیرُ البرا ہے
وہ جنت دگی ہے تو پھر اور کیا ہے
کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں
یہ قسمت رہی ہے تو پھر اور کیا ہے
جو آسی کو کملی میں اپنے چھپا لے
جو دشمن کو بھی زخم کھا کر دعا دے
جو آسی کو کملی میں اپنے چھپا لے
جو دشمن کو بھی زخم کھا کر دعا دے
اسے اور کیا نام دے گا زمانہ
یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
جہاں روزِ پاکِ خیرُ البرا ہے
وہ جنت دگی ہے تو پھر اور کیا ہے
کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں
یہ قسمت رہی ہے تو پھر اور کیا ہے
قیامت کا اک دن معین ہے لیکن
ہمارے لیے ہے نفس گئے قیامت
قیامت کا اک دن معین ہے لیکن
ہمارے لیے ہے نفس گئے قیامت
مدینے سے ہم جاں نثاروں کی دوری
قیامت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
جہاں روزِ پاکِ خیرُ البرا ہے
وہ جنت دگی ہے تو پھر اور کیا ہے
کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں
یہ قسمت رہی ہے تو پھر اور کیا ہے
تم اقبال یہ نات تو کہہ رہے ہو
مگر یہ بھی سوچا کہ کیا کر رہے ہو
تم اقبال یہ نات تو کہہ رہے ہو
مگر یہ بھی سوچا کہ کیا کر رہے ہو
کہاں تم کہاں شاہِ ممدوگِ ارزدا
یہ جرت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
جہاں روزِ پاکِ خیرُ البرا ہے
وہ جنت دگی ہے تو پھر اور کیا ہے
کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں
یہ قسمت رہی ہے تو پھر اور کیا ہے
پھر اور کیا ہے