Skip to main content
Allama Hafiz Bilal Qadri - Anay Walo Yeh toh Btoe - New Naat - Heera Gold cover art

Allama Hafiz Bilal Qadri - Anay Walo Yeh toh Btoe - New Naat - Heera Gold

by Heera Gold

Album: Nasheeds

Duration: 6:06

Genre: nasheed, naatYear: 2017Type: nasheed

Story & Cultural Context

'Aanay Walo Yeh Toh Btao' is a famous traditional Pakistani Naat Sharif expressing deep devotion, love, and yearning for Madinah, famously recited by Allama Hafiz Bilal Qadri and released via Heera Gold.

← Browse
Allama Hafiz Bilal Qadri - Anay Walo Yeh toh Btoe - New Naat - Heera Gold

Allama Hafiz Bilal Qadri - Anay Walo Yeh toh Btoe - New Naat - Heera Gold

Nasheeds 6:06 2017
AI-Enriched85%
Instruments
vocal-only

Credits

ProducerHeera Gold
LabelHeera Gold

Story & Cultural Context

'Aanay Walo Yeh Toh Btao' is a famous traditional Pakistani Naat Sharif expressing deep devotion, love, and yearning for Madinah, famously recited by Allama Hafiz Bilal Qadri and released via Heera…

Titles in Other Languages

EnglishAanay Walo Yeh Toh Btao

Lyrics

آنے والوں یہ تو بتاو شہر مدینہ کیسا ہے
سر ان کے قدموں میں رکھ کر جھک کر جینا کیسا ہے
دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا شہر مدینہ ایسا ہے
آنکھوں کو جو ٹھنڈک بخشے گمبت خضرا ایسا ہے
آنے والوں یہ تو بتاو شہر مدینہ کیسا ہے

گمبت خضرا کے سائے میں بیٹھ کے تم تو آئے ہو
اس سائے میں رب کے آگے سجدہ کرنا کیسا ہے
آنے والوں یہ تو بتاو شہر مدینہ کیسا ہے

میں بھی چمتے آجا یا ہوں ان مقدس گلیوں کو
جو کچھ دیکھا ان گلیوں میں کہیں نہ دیکھا ایسا ہے
دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا شہر مدینہ ایسا ہے
دل آکے اور روح تمہاری لگتی ہے ساز مجھے
در پر ان کے بیٹھ کے آبی زمزم پینا کیسا ہے
آنے والوں یہ تو بتاو شہر مدینہ کیسا ہے

ہم مہمان بنے تھے ان کے خوش پہ جو مہمان ہوئے
کیوں نہ پسند بس رہنا زاکر ان کا آقا ایسا ہے
دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا شہر مدینہ ایسا ہے
دیوانوں آنکھوں سے تو ہاری اتنا پوچھ تو لینے دو
وقت دوہاں روزے پہ ان کے آنسو بہانا کیسا ہے
آنے والوں یہ تو بتاو شہر مدینہ کیسا ہے

ممبر پاک سے ہو نہ مجھے دیکھا آنسو سے جو ظاہری
حرم شریف کا در منظر میں نظر میں جچتا کیسا ہے
دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا شہر مدینہ ایسا ہے
وقت رخصت دل کو اپنے چھوڑ وہاں تم آئے ہو
یہ بتلاو عشرت ان کے در سے بچھڑنا کیسا ہے
آنے والوں یہ تو بتاو شہر مدینہ کیسا ہے

واپس آئے دل نہیں کرتا چھوڑ کے ان کی چوکھٹ کو
جان بھی دے دے ان کے در پر دل میں آتا ایسا ہے
دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا شہر مدینہ ایسا ہے
شہر مدینہ ایسا ہے