
Genre: nasheed, naatYear: 2018Type: nasheed
Story & Cultural Context
A devotional Islamic Naat performed by Pakistani reciter Syed Furqan Qadri, expressing reverence and praise for the Islamic Prophet Muhammad. Released by the prominent Pakistani Islamic media label Heera Gold in 2018.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
ProducerHeera Gold
LabelHeera Gold
Story & Cultural Context
A devotional Islamic Naat performed by Pakistani reciter Syed Furqan Qadri, expressing reverence and praise for the Islamic Prophet Muhammad. Released by the prominent Pakistani Islamic media label…
Titles in Other Languages
EnglishYeh Samjhnay Ki Baat Hai
Lyrics
کوئی ایک معروف مشہور ہے کہ سمجھ سمجھ کے سمجھ کو سمجھو سمجھ سمجھنا بھی ایک سمجھ ہے سمجھ سمجھ کے بھی جو نہ سمجھے میری سمجھ میں وہ نا سمجھ ہے دوستوں بات صرف اتنی ہے کہ جو سمجھ گیا وہ تو صاحب ایمان ہوا اور جو نہ سمجھا وہ ابو جاہل ہی رہا ہے دور یا بشر ہے دور یا بشر یہ سمجھنے کی بات ہے سمجھے سے کوئی اگر یہ سمجھنے کی بات ہے ہے دور یا بشر کر نور میں کہوں تو فرشتہ بھی نور ہے آیا صدرہ کا مقام بھولا کا سے غلام آگے بڑھ سکتا نہیں رب کعبہ کی قسم کر نور میں کہوں تو فرشتہ بھی نور ہے پھر کیوں جلیں گے پر یہ سمجھنے کی بات ہے ہے دور یا بشر یہ سمجھنے کی بات ہے سمجھے سے کوئی اگر یہ سمجھنے کی بات ہے ہے دور یا بشر سجدہ سہب تبدیل کر دیا رب کے حبیب نے سجدہ سہب تبدیل کر دیا رب کے حبیب نے آقا نے تشبیح بنا دی بیٹا ہی کچھ ایسا ہے سجدہ سہب تبدیل کر دیا رب کے حبیب نے تھا کون پوشٹ پر یہ سمجھنے کی بات ہے ہے دور یا بشر یہ سمجھنے کی بات ہے سمجھے سے کوئی اگر ہے دور یا بشر تاروں سے زیادہ نیکی ہزرے دمر کی ہے یہ دونوں ہیں سردار دو جہاں اے مرتضی اتی کو عمر کو خبر نہ ہو تاروں سے زیادہ نیکی ہزرے دمر کی ہے تاروں کی بھی خبر یہ سمجھنے کی بات ہے تاروں کی بھی خبر یہ سمجھنے کی بات ہے ہے دور یا بشر یہ سمجھنے کی بات ہے سمجھے سے کوئی اگر یہ سمجھنے کی بات ہے ہے دور یا بشر خواہش خدا کی دید کی یوں تو کہیں نہیں آیا کسی نظر یہ سمجھنے کی بات ہے آیا کسی نظر یہ سمجھنے کی بات ہے ہے دور یا بشر یہ سمجھنے کی بات ہے سمجھے سے کوئی اگر یہ سمجھنے کی بات ہے ہے دور یا بشر کرنے صنہ میرے نبی کی جناب میں خود آئے کیوں شجر یہ سمجھنے کی بات ہے خود آئے کیوں شجر یہ سمجھنے کی بات ہے ہے دور یا بشر یہ سمجھنے کی بات ہے سمجھے سے کوئی اگر یہ سمجھنے کی بات ہے ہے دور یا بشر کہہ کر جنید تُو نے کلا اس پہ رکھ دیا لیکن رضا نے ختم سخن اس پہ کر دیا خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے ہاں کہہ کر جنید تُو نے کلا اس پہ رکھ دیا رکھا دیا آسان نہیں سفر یہ سمجھنے کی بات ہے آسان نہیں سفر یہ سمجھنے کی بات ہے ہے دور یا بشر یہ سمجھنے کی بات ہے سمجھے سے کوئی اگر یہ سمجھنے کی بات ہے ہے دور یا بشر