
Genre: nasheed, naatYear: 2018Type: nasheed
Story & Cultural Context
'Soz e Dil Chahiye' is an Urdu spiritual naat recited by Allama Bilal Qadri and released by Heera Gold in 2018. The kalam expresses deep devotion, longing, and love for the Prophet Muhammad (PBUH), praying for a heart filled with spiritual warmth and passion.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
LyricistMufti Muhammad Qasim Attari
ProducerHeera Gold
LabelHeera Gold
Story & Cultural Context
'Soz e Dil Chahiye' is an Urdu spiritual naat recited by Allama Bilal Qadri and released by Heera Gold in 2018. The kalam expresses deep devotion, longing, and love for the Prophet Muhammad (PBUH),…
Titles in Other Languages
العربيةسوز دل چاہیے
EnglishSoz-e-Dil Chahiye
Lyrics
سوز دل چاہیے چشم نم چاہیے اور شوق طلب معتبر چاہیے سوز دل چاہیے چشم نم چاہیے اور شوق طلب معتبر چاہیے گھومیا شہر مدینے کی گلیاں اگر آنکھ کا فی نہیں ہے نظر چاہیے گوشا گوشا مدینے کا پر نور ہے سارا ماحول جلووں سے معمور ہے شرط یہ ہے کہ ظرفے نظر چاہیے دیکھنے کے لیے دیدہ ور چاہیے سوز دل چاہیے چشم نم چاہیے اور شوق طلب معتبر چاہیے گھومیا شہر مدینے کی گلیاں اگر آنکھ کا فی نہیں ہے نظر چاہیے ان کی محفل کے آداب کچھ اور ہیں لب کشائی کی جرت مناسب نہیں ان کی سرکار میں التجا کے لیے جنبش لب نہیں چشم تر چاہیے سوز دل چاہیے چشم نم چاہیے اور شوق طلب معتبر چاہیے گھومیا شہر مدینے کی گلیاں اگر آنکھ کا فی نہیں ہے نظر چاہیے میں گدائے شہنشاہ کونین ہوں چیز محلوں کی مجھ کو تمنا نہیں گھومیا شہر زمین پر کسے رزمی مجھ کو طبعہ میں ایک اپنا گھر چاہیے سوز دل چاہیے چشم نم چاہیے اور شوق طلب معتبر چاہیے گھومیا شہر مدینے کی گلیاں اگر آنکھ کا فی نہیں ہے نظر چاہیے اپنی روداد غم میں سناوں کسے میرے غم کو کوئی اور سمجھے گا کیا جن کی خاک قدم بھی ہے خاک شفا میرے زخموں کو وہ چاراگر چاہیے سوز دل چاہیے چشم نم چاہیے اور شوق طلب معتبر چاہیے گھومیا شہر مدینے کی گلیاں اگر آنکھ کا فی نہیں ہے نظر چاہیے مدحت سید دو جہاں کے لیے صرف لفظوں کا یا کا سہارا نہ لو فن شاعری ہے اقبال اپنی جگہ نات کہنے کو خون جگر چاہیے سوز دل چاہیے چشم نم چاہیے اور شوق طلب معتبر چاہیے گھومیا شہر مدینے کی گلیاں اگر آنکھ کا فی نہیں ہے نظر چاہیے آنکھ کا فی نہیں ہے نظر چاہیے آنکھ کا فی نہیں ہے نظر چاہیے