Skip to main content
Ya Hussain Ibne Ali cover art

Ya Hussain Ibne Ali

by Heera Gold

Album: Nasheeds

Duration: 9:45

Genre: nasheed, naat, madihYear: 2018Type: nasheed

Story & Cultural Context

This Manqabat is a Shia/Sunni devotional kalam dedicated to Hazrat Imam Hussain (R.A.) and his sacrifice at Karbala, released for Muharram 1440 AH by Heera Gold. Recited by Muhammad Hassan Raza Qadri, it pays homage to Imam Hussain ibne Ali.

← Browse
Ya Hussain Ibne Ali

Ya Hussain Ibne Ali

Nasheeds 9:45 2018
AI-Enriched85%
OccasionMuharram
Instruments
vocal-onlypercussion

Credits

ProducerHeera Gold
LabelHeera Gold

Story & Cultural Context

This Manqabat is a Shia/Sunni devotional kalam dedicated to Hazrat Imam Hussain (R.A.) and his sacrifice at Karbala, released for Muharram 1440 AH by Heera Gold. Recited by Muhammad Hassan Raza Qadri,…

Titles in Other Languages

EnglishYa Hussain Ibne Ali

Lyrics

مولا حسین، مولا حسین، یا حسین، یا حسین
نکل کر لشکر آدھا سے مارا ہور نے یہ نعرہ
کہ دیکھو یوں نکلتے ہیں جہنم سے خدا والے
ہزاروں میں بہتر تن سے تسلیم و رضا والے
حقیقت میں خدا ان کا تھا اور یہ تھے خدا والے
یا حسین، یا حسین، یا حسین، یا حسین
اللہ کی رضا پر وہ قربان ہو گئے
جنگِ تاغوت میں درسِ شہادت کو دے گئے
جب کربلا میں آئے دلانِ بطول کے
شیرِ خدا کے لادلے تلوار سے لڑے
کبھی ظالموں کے سامنے جھکے نہیں
ایک ذرب دے کے اور بھی کئی ویران لگا دیا
دریا پہ بھی نہر میں بھی پہرہ لگا دیا
یا حسین، یا حسین، یا حسین، یا حسین
زینب نے جب علی کا وسد دیکھا یہ منظرہ
آ کر کہا حسین سے یہ دل سازگار نہیں
کہتے سہہ لب پہ آیتِ قرآنیے رہے
مانا کہ یہ تمہاری بین کا کرار ہے
پیارِ حسین تو اس پہ یہ بچے نصار لے
یا حسین، یا حسین، یا حسین، یا حسین
حسین ابنِ علی کی کیا مدد کر سکتا تھا کوئی
یہ خود مشکل کشا تھے اور تھے مشکل کشا والے
اسغر علی براہِ باویرم ہوئے
عباس کے بھی نہرم میں بازوں کرم ہوئے
اور حسن کا سینہ جس گیا اب کچھ ہوئے شہید
رائے خدا میں سب بھی دلاب ہوئے شہید
زہرہ کا صبر چھن گیا ہے گھر کا گرزا
افسوس کربلا میں گیا گھر کا گرزا
یا حسین، یا حسین، یا حسین، یا حسین
قدرت سے اماموں کا تیرا وعدہ صدہ ہے
محفوظ رہا حقِ قابہ وعدہ صدہ ہے
بچوں کا دکھ کے سینے میں فترے گرم بھی ہے
اور اس کے ساتھ نانا کی امت کا غم بھی ہے
شیرِ خدا کے شیر کے غار میں تریب ہے
وہ خوب جانتے ہیں شہادت سے قریب ہے
یا حسین، یا حسین، یا حسین، یا حسین
بیمار نانا کو بستر پہ چھوڑ کر
شبیر رن میں چل دی ہے گھوڑے کو موڑ کر
سینے میں اپنی دست باعی امانیے ہوئے
لب پہ آیتِ قرآن لیے ہوئے
جیدار ہی عزیز نراحس عزیز تھی
ان کو تو کربلا میں شہادت عزیز تھی
یا حسین، یا حسین، یا حسین، یا حسین
دریا بہا جو موت کا پیاسے کو دیکھ کر
جب کاف اٹھے نبی کے نواسے کو دیکھ کر
تیروں کا میزہ سننے لگا شوقے تیرے پر
خونِ حسین گرنے لگا جب زمین پر
اس خون کو فرشتوں نے دامن میں لے لیا
ایک پونڈ کو بھی ریت پہ گرنے نہیں دیا
یا حسین، یا حسین، یا حسین، یا حسین
سخبوچ چور ہو گیا جو مصطفیٰ کا لال
سجدے میں سر جھکا کے کہا رب سے سنجلا
اے حق کے سارے میم میں نے سجدہ قبول کر
شہِ آخری نماز ہے مولا قبول کر
اس طرح پورا ہو گیا تقدیر کا لکھا
سو کے گلے پہ چل گیا خنجر لعین کا
امت کو یوں بچایا شہِ بے مثال نے
سجدے میں سر کٹا دیا سہرہ کے لال نے
یا حسین، یا حسین، یا حسین، یا حسین
مولا حسین، مولا حسین، یا حسین
مولا حسین، مولا حسین، یا حسین
یا حسین، یا حسین, ya Hussain
Hussain, Hussain, Hussain, Hussain