Skip to main content
Arzo Sama Banay Hai cover art

Arzo Sama Banay Hai

by Muhammad Bilal Qadri

Album: Nasheeds

Duration: 8:58

Genre: nasheed, naat, hamdType: nasheed

Story & Cultural Context

Arzo Sama Banaye Hain is a renowned traditional Urdu Naat/Hamd praising the grandeur of Creation and the Prophet Muhammad, penned by the famous 19th-20th century scholar Imam Ahmed Raza Khan Barelvi and recited widely in South Asia.

← Browse
Arzo Sama Banay Hai

Arzo Sama Banay Hai

AI-Enriched75%
Instruments
vocal-only

Credits

LyricistImam Ahmed Raza Khan Barelvi
LabelWithout label

Story & Cultural Context

Arzo Sama Banaye Hain is a renowned traditional Urdu Naat/Hamd praising the grandeur of Creation and the Prophet Muhammad, penned by the famous 19th-20th century scholar Imam Ahmed Raza Khan Barelvi…

Titles in Other Languages

EnglishThe Earth and the Heavens Were Created

Lyrics

نور محمد نور محمد نور محمد نور محمد نور محمد نور محمد نور محمد نور محمد آرزوں سماں بھرے ہیں اسی نور کے طفیل تارے چمک رہے ہیں اسی نور کے طفیل آرزوں سماں بھرے ہیں اسی نور کے طفیل تارے چمک رہے ہیں اسی نور کے طفیل گلشن بھرے بھرے ہیں اسی نور کے طفیل دونوں جہاں سجے ہیں اسی نور کے طفیل اس نور کا خزاں سے رابطہ ہے ہی نہیں یہ نور روحِ جستا کیذا فضاں ہے خدا آرزوں سماں بھرے ہیں اسی نور کے طفیل تارے چمک رہے ہیں اسی نور کے طفیل آیا ہے نور لے کر دنیا کو سجانے کے واسطے بندوں کو ان کے رب سے ملانے کے واسطے دنیا عدد بتوں کی گرانے کے واسطے رسموں رواج کفر مٹانے کے واسطے انسان کو بندگی کا سلیقہ سکھائے گا یہ نور ظلمتوں کو اجالے بناے گا آرزوں سماں بھرے ہیں اسی نور کے طفیل تارے چمک رہے ہیں اسی نور کے طفیل لایا ہے اپنے ساتھ مسادات کاریاں موسیقی کے غرمے کے دن ماں کا گویا بھولا شبازِ استقلال اس کا مقصد متلے گا غنیموں جوڑے کے بنداز یہ زمان لوگوں کے دل سے سنگے بدولت چھڑائے گا غفتر خوشی کی رسم جنازے مٹائے گا آرزوں سماں بھرے ہیں اسی نور کے طفیل تارے چمک رہے ہیں اسی نور کے طفیل کردار لا جواب ہے کردار بے لثیر کامل ستم زدوں کا یتیموں کا دستگیر ہلکاوں کو شکست دیا شہا کیافرین انسان ہے اس سے کانا بھی انسان کا اسی سے وہ سارے گا خد وہ ناحا کو کھلائے گا یہ اپنے دشمنوں کو گلے سے لگائے گا آرزوں سماں بھرے ہیں اسی نور کے طفیل تارے چمک رہے ہیں اسی نور کے طفیل پیروں میں اپنے سارے جہاں کو چھنائے گا پیناسةوں کو رشک کلیسا بنائے گا ہر گام ربتوں کے خزانے لٹائے گا انسان کو یہ جنت سے خوب تر سکائے گا دے گا کچھ اس عطا سے یہ پیغام دوستی ذہنوں سے دوہ کرے گا صدیوں کی دشمنی آرزوں سماں بھرے ہیں اسی نور کے طفیل تارے چمک رہے ہیں اسی نور کے طفیل یہ صاحبے جال ہے یہ صاحبے کمال خوش دل ہے خوش بسن ہے خوش فلکوں ہوشمال فلک دو جہاں کی ہے تفلیح بے مثال ممکن نہیں ہے اس کو کسی طور میں زوال روشن کرے گا رشتوں ہدایت کے وہ دیئے بن جائیں گے سبق جو ہر ایک دور کے لیے آرزوں سماں بھرے ہیں اسی نور کے طفیل تارے چمک رہے ہیں اسی نور کے طفیل ہے نور کے جسات محمد کا استقفایہ فصان مکہ پر پا رہے پایا سردار کائنات نے نبیوں کا ہے ایمان تاریف سے بلندر ہے اس نور کا مقام آیا ہے اور نہ آئے گا اس جہان میں کبھی دنیا میں بھی عزیز ہے اقبا میں بھی ولی آرزوں سماں بھرے ہیں اسی نور کے طفیل تارے چمک رہے ہیں اسی نور کے طفیل بے سطح یہی ہے صاحب تفلیح کا آئینہ جمکے گا اس کے حسن سے ہر گلشن خزانہ رقص فضائے سفا کو سرتی ہر ایک با دل میں رہے اس کے رہم نظر میں رہے التفاہ اس کے کرم کی حد ہے نہ کوئی حساب ہے اس پر دے گا خرا لکھ وہ آفتاب ہے آرزوں سماں بھرے ہیں اسی نور کے طفیل تارے چمک رہے ہیں اسی نور کے طفیل یاسی یہی ہے اسی سے معمود رہے گی کہاں یہی ہے شاہدوں مشہود رہے گی کامل یہی ہے تاہروں سے عوض رہے گی یہ جو درود مرے تھی معبود رہے گی صادق ہے یہ امی ہے خدا کا خلیل ہے آئینہ دار جلوہ رب جلیل ہے آرزوں سماں بھرے ہیں اسی نور کے طفیل تارے چمک رہے ہیں اسی نور کے طفیل آیا ہے مفلح سو کی جماعت لیے ہوئے مظلوم بے کسی کی محافظ لیے ہوئے کم آس لوگوں کے آزمیں شفاہت لیے ہوئے سارے جہان کے لئے رحمت لیے ہوئے ہوگا نصیب ذات پران کا نزول وہ آخری کتاب ہے یہ آخری رسول آرزوں سماں بھرے ہیں اسی نور کے طفیل تارے چمک رہے ہیں اسی نور کے طفیل نور محمد نور محمد نور محمد نور محمد