Skip to main content
Ahlan Wa Sahlan Marhaba cover art

Ahlan Wa Sahlan Marhaba

by Heera Gold

Album: Nasheeds

Duration: 10:27

Genre: nasheed, naat, madihYear: 2018Type: nasheed

Story & Cultural Context

A popular Urdu Mawlid naat recited by Syed Rehan Raza Attari and released by Heera Gold for the 12th Rabi ul Awal celebrations in 2018-2019. The track expresses joy and praise for the birth of the Prophet Muhammad.

← Browse
Ahlan Wa Sahlan Marhaba

Ahlan Wa Sahlan Marhaba

Nasheeds 10:27 2018
AI-Enriched85%
OccasionMawlid
Instruments
vocal-only

Credits

LabelHeera Gold

Story & Cultural Context

A popular Urdu Mawlid naat recited by Syed Rehan Raza Attari and released by Heera Gold for the 12th Rabi ul Awal celebrations in 2018-2019. The track expresses joy and praise for the birth of the…

Titles in Other Languages

العربيةأهلاً وسهلاً مرحبا
EnglishAhlan Wa Sahlan Marhaba

Lyrics

مرغبا مرغبا آقا لمبا شاہِ حیدر صر مرگبا سرکار کی آمد مرگبا آقا کی آمد مرگبا سب جو مل کے بولو مرگبا آقا لمبا شاہِ حیدر صر مرگبا ان کیوں آج جھومِ کے سرکار آئے خدا کی خدای کے مختار آئے نہ کیوں باروی پیغمِ پیار آئے کسی روز سرکار آئے آقا لمبا شاہِ حیدر صر مرگبا ہم سرِ فرسود کے بازار مبارک مبارک سرِ سرکار سرکار آئے وہ سر جھک کیوں نہ جھومِ مچائے ہمارے شہر شاہب سرکار آئے آقا لمبا شاہِ حیدر صر مرگبا عدب ہم کو بارا کا کیوں ہونا پیارا عدب ہم کو بارا کا کیوں ہونا پیارا کے بارا کی تعریف جب یار آئے نہ کیوں آج جشنِ ولادت منائے نہ ذر وت کی رحمت کے آثار آئے آقا لمبا شاہِ حیدر صر مرگبا ربی الاول کا مہینہ تھا دو شنبہ کا دن تھا اور صبحِ صادق کی زیاوار سہانی گھڑی تھی رات کی بھینک سیاہی چھٹ رہی تھی اور دن کا اجالہ پھیلنے لگا تھا جب مکہ کے سردار حضرت عبد المطلب کی جوان سال بیوہ بہو کے حضرت اویاس کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے سادہ سے مکان میں ازلی سعادتوں اور ابدی مسررتوں کا نور چمکا تیو نے خوش نوا شمزما اے سن ہوئے کہ فضا کی چیرہ دستیوں سے تباہ حال گلشنِ انسانیت کو سرمدی بہاروں سے آشنا کرنے والا آ گیا سر و گری ماہنچے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے کہ انہیں جگانے والا آیا اور جگا کر انہیں شگفتہ پھول بنانے والا آیا افسردہ کلیاں مسکرانے لگی تھی کہ ان کے دامن کو رنگوں لذت سے فردوسِ بدامہ کرنے والا آیا علم و آگہی کے سمندروں میں حکمت کے جو آبدار موتی آغوشِ صدف میں صدیوں سے بے مصرف پڑے تھے ان میں شوقِ نمود انگڑائیاں لینے لگا مبارک باد ہے ان کے لیے جو ظلم سہتے ہیں کہیں جن کو اماں ملتی نہیں برباد رہتے ہیں مبارک باد بیواؤں کو حضرت زا نگاہوں کو اثر بخشا گیا نالوں کو فریادوں کو آہوں کو ضعیفوں بے قصوں آفت نصیبوں کو مبارک ہو یتیموں کو غلاموں کو غریبوں کو مبارک ہو مبارک دھو کریں کھا کھا کے پیہم گرنے والوں کو مبارک دشتِ غربت میں بھٹکتے پھرنے والوں کو خبر جا کر سنا تو شش جہت کے زیر دستوں کو زبردستی کی جرت اب نہ ہوگی خود پرستوں کو موئین وقت آیا زورِ باطل گھٹ گیا آخر انتھیرا مٹ گیا ظلمت کا بادل چھٹ گیا آخر مبارک ہو کہ دورِ رات و آرام آ پہنچا نجاتے دائمی کی شکل میں اسلام آ پہنچا مبارک ہو کہ ختم المرسلین تشریف لے آئے جنابِ رحمت اللہ العالمین تشریف لے آئے مرگبا سرکار کی آمد مرگبا آقا کی آمد مرگبا سب جو مل کے بولو مرگبا آقا لمبا شاہِ حیدر صر مرگبا گھٹا چھا گئی ہر طرف رحمتوں کی بولے گے راتی کے جنوے غمخار آئے چلو اے گدھا چلو بنبا لٹاتے وہ نعمت کے امبار آئے ملادت کا صدقہ جیوں میں جاگا رتنِ دنیا شگے ریار آئے ملادت کا صدقہ غم سے اپنا غم دوشاگا دل میں نرمتے طرفگار آئے ملادت کا صدقہ خلقات اشعق کی نگری سے ہم کو بیدار آئے ملادت کا صدقہ غم سے نفرت فقار شاہیوں سے ہمیں پیار آئے ملادت کا صدقہ غفابند سنزتوں سے آرپیشہ سے سرکار آئے ملادت کا صدقہ سنلکاب اٹھا دو لیاں غم امید دیدار آئے ملادت کے صدقہ سوحشی بھزادا شاغا خود بے جب کے حاد تار آئے سرکار کی آمد مربا آقا کی آمد مربا سب جو مل کے بولو مربا آقا لمبا شاہِ حیدر سر مربا مربا مربا مربا مربا