
Genre: nasheed, naatYear: 2018Type: nasheed
Story & Cultural Context
'Zameen o Zaman Tumhare Liye' is a famous classic Urdu Naat written by the renowned 19th-century scholar Imam Ahmad Raza Khan Barelvi in praise of the Prophet Muhammad. This rendition features a vocal performance by Muhammad Anwar Khan and Muhammad Waqar Chishti, released under the Heera Gold label.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
LyricistAhmad Raza Khan Barelvi
LabelHeera Gold
Featured Artists
Muhammad Anwar KhanMuhammad Waqar Chishti
Story & Cultural Context
'Zameen o Zaman Tumhare Liye' is a famous classic Urdu Naat written by the renowned 19th-century scholar Imam Ahmad Raza Khan Barelvi in praise of the Prophet Muhammad. This rendition features a vocal…
Titles in Other Languages
EnglishThe Earth and Time Are for You
Lyrics
جب بساطِ ہستی بچھائی گئی بس تمہارے لیے یہ نگارِ خانہ قدرت سجائی گئی بس تمہارے لیے یہ مناظرِ فطرت دکھائے گئے بس تمہارے لیے اے محبوب اگر تم کو پیدا نہ کرتے تو ہم کائنات میں کسی کے رب نہ ہوتے رب نہ ہوتے زمیں و زماں تمہارے لیے مکیں و مکاں تمہارے لیے زمیں و زماں تمہارے لیے مکیں و مکاں تمہارے لیے چنیں و چناں تمہارے لیے بنے دو جہاں تمہارے لیے دہن میں زباں تمہارے لیے بدن میں ہے جاں تمہارے لیے دہن میں زباں تمہارے لیے بدن میں ہے جاں تمہارے لیے ہمارے یہاں تمہارے لیے اٹھے بھی وہاں تمہارے لیے ہمارے یہاں تمہارے لیے اٹھے بھی وہاں تمہارے لیے تمہاری چمک تمہاری دمک تمہاری جھلک تمہاری مہک تمہاری چمک تمہاری دمک تمہاری جھلک تمہاری مہک زمیں و فلک سماں کو سمک میرے سب کا نشاں تمہارے لیے زمیں و فلک سماں کو سمک میرے سب کا نشاں تمہارے لیے اشارے سجاں دے تیرے دیاں چھپے ہوئے کھل کے پھر دیاں اشارے سجاں دے تیرے دیاں چھپے ہوئے کھل کے پھر دیاں گئے ہوئے دن کو اثرن کیاں یہ تاب و تواں تمہارے لیے گئے ہوئے دن کو اثرن کیاں یہ تاب و تواں تمہارے لیے یہ فیض دیئے وجود کیے کہ نام لیے زمانہ جیے یہ فیض دیئے وجود کیے کہ نام لیے زمانہ جیے جہان لیے تمہارے دیے اے اکرمیاں تمہارے لیے جہان لیے تمہارے دیے اے اکرمیاں تمہارے لیے صبا وہ چلے کہ باغ پھلے وہ پھول کھلے کہ دل کو بھلے صبا وہ چلے کہ باغ پھلے وہ پھول کھلے کہ دل کو بھلے دیوار کے تلے صنم نے کھلے رضا کی زباں تمہارے لیے دیوار کے تلے صنم نے کھلے رضا کی زباں تمہارے لیے زمیں و زماں تمہارے لیے مکیں و مکاں تمہارے لیے چنیں و چناں تمہارے لیے بنے دو جہاں تمہارے لیے