
Genre: naat, nasheedYear: 2018Type: nasheed
Story & Cultural Context
'Sahara Chahiye' is an Urdu Naat performed by the renowned Pakistani Naat Khawan Muhammad Hassan Raza Qadri. Released under the prominent Heera Gold Islamic music label, the track is a heartfelt plea of devotion praising the Prophet Muhammad.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
ProducerMehmood Attari
LabelHeera Gold
Story & Cultural Context
'Sahara Chahiye' is an Urdu Naat performed by the renowned Pakistani Naat Khawan Muhammad Hassan Raza Qadri. Released under the prominent Heera Gold Islamic music label, the track is a heartfelt plea…
Titles in Other Languages
EnglishSahara Chahiye
Lyrics
کس نصیب کہاں سے جن کا دو جہاں میں کسی بھی بنایا رسول اللہ کے لیے طرف پرہا ہوں مدینے کی حاصل کے لیے طرف پرہا ہوں مدینے کی حاصل کے لیے کوئی نہ ایسا جو پوچھنے کو آئے دھرا ہوا غم سے منزل کو ڈھونڈتا گئے تاریکیوں میں مانگے سہر کو ڈھونڈتا گئے نبی نبی سرکار امت کی نبی نبی کچھ ایسے گزرے یہ سنہری عالم سے فریاد کراں ہوں میں دل سے گار کروں سے نافرمی سے روحوں کی ناشد یہ گم سے سب کو عید مبارک تجھاں کو تجھاں رہے سب کو عید مبارک تجھاں کو تجھاں رہے سنتے ہیں ہر ظلم کو تجھاں رہے سرکار سے ہر ظلم کو تجھاں رہے سرکار سے مدینہ جاتا رہا دوبارہ پھر جائے مدینہ جاتا رہا دوبارہ پھر جائے کس زندگی میری عمری تمام ہو جائے کس زندگی میری عمری تمام ہو جائے سارے سارے سلسلے سرکار امت کی لیے طرف پرہا ہوں مدینے کی حاصل کے لیے آج میں مدینہ جا کر نبی سے کہہ دوں سویرا نونسے اب دل رہا ہو سینوسے کہنا کے بڑھ رہی ہے اب دل کی ازترابی قدموں سے دور ہوں میں قسمت کی یہ خرابی کہنا کے دل میں میرے ارماں کرے گوں گے کہنا کے گسرتوں کے میں سر چپے گوں گے زیارت سوئی دل کی پھر بھی مر دی دی جاں سرتا سے دوسرا خطا بھی جی بھر دی کاں کارتوں گا سارے چکر تے باقی گھر دنی کے یوں ہی گزار دوں میں ایام زندگی کے میں جاں میں سازا آتو پھر دل کو بارو سالوں کو تو سلامی بھر کے کرو غلامی دیواروں دل کو چوما جو گھٹ میں سر کو رکھنو روزے کو دیکھ کر میں رو تا رہا ہوں بھرا بھرا حالم کے دل میں ہے یہ حسرت نہ جانے کب سے ہم سب کے دل میں کیا یہ حسرت نہ جانے کب سے میرا بھی قصہ ایکوں کی ناشدیر گم سے سارے سارے سلسلے سرکار امت کے لیے جامستا کافہ درہ دریز میں غزلی کاں کروں نظرانا اپنی بندی کاں ایک بار تو دکھا دو رمضان میں مدینہ آقا کا میں بھی کھا دو رمضان میں مدینہ بے شک بنا لو آقا مہمان دو گھڑی کاں میں سیف باروں میں میرا بیناں ہو جائے میرے زندگی کے مدینے میں شامل ہو جائے سارے سارے سلسلے سرکار امت کے لیے طرف پرہا ہوں مدینے کی حاصل کے لیے اے آرزی میں مدینہ جا کر نبی سے کہہ دوں سویرا نون سے اب دل رہا ہو سینوسے کہنا کے بڑھ رہی ہے اب دل کی ازتیرا بھی قدموں سے دور ہوں میں قسمت کی یہ خرابی کہنا کے دل میں میرے ارماں کرے گوں گے کہنا کے گسرتوں کے میں سر چبے گوں گے زیارت سوئی دل کی پھر بھی مر دی دی جاں سرتا سے دوسرا خطا بھی جی بھر دی کاں کارتوں گا سارے چکر تے باقی گھر دنی کے یوں ہی گزار دوں میں ایام زندگی کے میں جاں میں سازاں آتو پھر دل کو بارو سالوں کو تو سلامی درکی کرو غلامی دیواروں دل کو چوما جو گھٹ میں سر کو رکھنو روزے کو دیکھ کر میں رو تا رہا ہوں بھرا بھرا آلم کے دل میں ہے یہ حسرت نہ جانے کب سے ہم سب کے دل میں کیا یہ حسرت نہ جانے کب سے میرا بھی قصہ ایکوں کی ناشدیر گم سے سارے سارے سلسلے سرکار امت کے لیے جامستا فاکہ درہ دریز نگازے کا کروں نظرانا اپنی بندی کا ایک بار تو دکھا دو رمضان میں مدینہ آقا کا میں بھی کھا دو رمضان میں مدینہ بے شک بنا لو آقا مہمان دو گھری کا میں سیف پاروں میں میرا بیناں ہو جائے میں سیف پاروں میں میرا بیناں ہو جائے سارے سارے سلسلے سرکار امت کے لیے طرف پرہا ہوں مدینے کی حاصل کے لیے طرف پرہا ہوں مدینے کی حاصل کے لیے سل اللہ یا رسول اللہ یا رسول اللہ