Skip to main content
Sahara Chahiye cover art

Sahara Chahiye

by Muhammad Hassan Raza Qadri

Album: Nasheeds

Duration: 10:48

Genre: nasheed, naatYear: 2020Type: nasheed

Story & Cultural Context

A famous Urdu Naat Sharif performed by Muhammad Hassan Raza Qadri, expressing deep devotion, love, and a plea for the spiritual assistance and shelter of the Holy Prophet Muhammad (PBUH).

← Browse
Sahara Chahiye

Sahara Chahiye

Nasheeds 10:48 2020
AI-Enriched80%
Instruments
vocal-only

Story & Cultural Context

A famous Urdu Naat Sharif performed by Muhammad Hassan Raza Qadri, expressing deep devotion, love, and a plea for the spiritual assistance and shelter of the Holy Prophet Muhammad (PBUH).

Titles in Other Languages

EnglishI Need Support / Shelter

Lyrics

کس نصیب کہاں سے جن کا دو جہاں میں کسی بھی بنایا رسول اللہ کے لیے
طرف پرہا ہوں مدینے کی حاصل کے لیے
طرف پرہا ہوں مدینے کی حاصل کے لیے
کوئی نہ ایسا جو پوچھنے کو آئے دھرا ہوا غم سے منزل کو ڈھونڈتا گئے تاریکیوں میں مانگے سہر کو ڈھونڈتا گئے
نبی نبی سرکار امت کی نبی نبی کچھ ایسے گزرے یہ سنہری عالم سے
فریاد کراں ہوں میں دل سے گار کروں سے نافرمی سے روحوں کی ناشد یہ گم سے
سب کو عید مبارک تجھاں کو تجھاں رہے سب کو عید مبارک تجھاں کو تجھاں رہے
سنتے ہیں ہر ظلم کو تجھاں رہے سرکار سے ہر ظلم کو تجھاں رہے سرکار سے
مدینہ جاتا رہا دوبارہ پھر جائے مدینہ جاتا رہا دوبارہ پھر جائے
کس زندگی میری عمری تمام ہو جائے کس زندگی میری عمری تمام ہو جائے
سارے سارے سلسلے سرکار امت کی لیے طرف پرہا ہوں مدینے کی حاصل کے لیے
آج میں مدینہ جا کر نبی سے کہہ دوں سویرا نونسے اب دل رہا ہو سینوسے
کہنا کے بڑھ رہی ہے اب دل کی ازترابی قدموں سے دور ہوں میں قسمت کی یہ خرابی
کہنا کے دل میں میرے ارماں کرے گوں گے کہنا کے گسرتوں کے میں سر چپے گوں گے
زیارت سوئی دل کی پھر بھی مر دی دی جاں سرتا سے دوسرا خطا بھی جی بھر دی کاں
کارتوں گا سارے چکر تے باقی گھر دنی کے یوں ہی گزار دوں میں ایام زندگی کے
میں جاں میں سازا آتو پھر دل کو بارو سالوں کو تو سلامی بھر کے کرو غلامی دیواروں دل کو چوما جو گھٹ میں سر کو رکھنو
روزے کو دیکھ کر میں رو تا رہا ہوں بھرا بھرا حالم کے دل میں ہے یہ حسرت نہ جانے کب سے ہم سب کے دل میں کیا یہ حسرت نہ جانے کب سے میرا بھی قصہ ایکوں کی ناشدیر گم سے
سارے سارے سلسلے سرکار امت کے لیے جامستا کافہ درہ دریز میں غزلی کاں کروں نظرانا اپنی بندی کاں
ایک بار تو دکھا دو رمضان میں مدینہ آقا کا میں بھی کھا دو رمضان میں مدینہ بے شک بنا لو آقا مہمان دو گھڑی کاں میں سیف باروں میں میرا بیناں ہو جائے
میرے زندگی کے مدینے میں شامل ہو جائے سارے سارے سلسلے سرکار امت کے لیے طرف پرہا ہوں مدینے کی حاصل کے لیے
اے آرزی میں مدینہ جا کر نبی سے کہہ دوں سویرا نون سے اب دل رہا ہو سینوسے
کہنا کے بڑھ رہی ہے اب دل کی ازتیرا بھی قدموں سے دور ہوں میں قسمت کی یہ خرابی
کہنا کے دل میں میرے ارماں کرے گوں گے کہنا کے گسرتوں کے میں سر چبے گوں گے
زیارت سوئی دل کی پھر بھی مر دی دی جاں سرتا سے دوسرا خطا بھی جی بھر دی کاں
کارتوں گا سارے چکر تے باقی گھر دنی کے یوں ہی گزار دوں میں ایام زندگی کے
میں جاں میں سازاں آتو پھر دل کو بارو سالوں کو تو سلامی درکی کرو غلامی دیواروں دل کو چوما جو گھٹ میں سر کو رکھنو
روزے کو دیکھ کر میں رو تا رہا ہوں بھرا بھرا آلم کے دل میں ہے یہ حسرت نہ جانے کب سے ہم سب کے دل میں کیا یہ حسرت نہ جانے کب سے میرا بھی قصہ ایکوں کی ناشدیر گم سے
سارے سارے سلسلے سرکار امت کے لیے
جامستا فاکہ درہ دریز نگازے کا کروں نظرانا اپنی بندی کا
ایک بار تو دکھا دو رمضان میں مدینہ آقا کا میں بھی کھا دو رمضان میں مدینہ بے شک بنا لو آقا مہمان دو گھری کا
میں سیف پاروں میں میرا بیناں ہو جائے میں سیف پاروں میں میرا بیناں ہو جائے
سارے سارے سلسلے سرکار امت کے لیے
طرف پرہا ہوں مدینے کی حاصل کے لیے طرف پرہا ہوں مدینے کی حاصل کے لیے
سل اللہ یا رسول اللہ یا رسول اللہ