Skip to main content
Jagah Ji Laganay Ki cover art

Jagah Ji Laganay Ki

by Imran Shaikh

Album: Singles

Duration: 7:52

Genre: nasheed, naat, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

A well-known Urdu Islamic nasheed/kalam based on the famous poetry of Khwaja Majzoob (disciple of Maulana Ashraf Ali Thanwi). The poem emphasizes the transient nature of the world and reminds the listener that Earth is a place to learn lessons from, not to attach one's heart to.

← Browse
Jagah Ji Laganay Ki

Jagah Ji Laganay Ki

About this recordingAuto-generated
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung by voice or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →naatNaat · Urdu / Persian نعتUrdu or Persian poetry in praise of the Prophet ﷺ, usually sung without instruments.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →

Credits

LyricistKhwaja Majzoob

Story & Cultural Context

A well-known Urdu Islamic nasheed/kalam based on the famous poetry of Khwaja Majzoob (disciple of Maulana Ashraf Ali Thanwi). The poem emphasizes the transient nature of the world and reminds the…

Titles in Other Languages

EnglishA Place to Take Heed

Lyrics

اللہ اللہ کرے بندے اللہ اللہ کرے اللہ اللہ کرے بندے اللہ ہی سے ڈرے اللہ اللہ کرے بندے اللہ اللہ کرے اللہ اللہ کرے بندے اللہ ہی سے ڈرے ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے سونے والے رب کو سجدہ کر کے سو کیا خبر اٹھے نہ اٹھے صبح کو کیا خبر اٹھے نہ اٹھے صبح کو جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے جہاں میں عبرت کے ہر سو نمونے مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ بونے کبھی غور سے بھی یہ دیکھا ہے تو نے جو آباد تھے وہ محل اب ہیں سونے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے ملے خاک میں اہل شاکر سے کیسے مکی ہو گئے نا مکہ کیسے کیسے ہوئے نامور بے نشان کیسے کیسے سمیخہ گئی نوجوان کیسے کیسے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے عجل نے نہ کسی کا بھی چھوڑا نہ دارا اسی سے سکندر ساتھ فاتح بہارا ہر اک چھوڑ کے کیا حسرت سے دھارا پڑا رہ گیا بس یہی تھاٹھ سارا جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے تجھے پہلے بچپن میں برسوں کھلایا جوانی میں پھر تجھ کو مجنو بنایا بڑھاپے نے پھر آکے کیا کیا ستایا عجل تیرا کردے گی بلکل صفایا یہی تجھ کو دھن ہے رہو سب سے بالا ہو زینت نرالی ہو فیشن نرالا جیا کرتا ہے کیا یوں ہی مرنے والا تجھے اس نظاہر نے دھوکے میں ڈالا جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے جب اس بزم سے اٹھ گئے دوست یا اکثر اور اٹھتے چلے جا رہے ہیں برابر یہ ہر وقت پیشے نظر جب ہے منظر یہاں پر تیرا جی بہلتا ہے کیوں پھر جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے