Skip to main content
Jagah Ji Laganay Ki cover art

Jagah Ji Laganay Ki

by Heera Gold

Album: Nasheeds

Duration: 7:52

Genre: nasheed, naatYear: 2019Type: nasheed

Story & Cultural Context

A famous spiritual Urdu kalam titled 'Jagah Ji Laganay Ki Duniya Nahi Hai', recited by Imran Shaikh Qadri and released by Heera Gold for Shab-e-Barat 2019. Authored by Sufi poet Khwaja Azizul Hasan Majzoob, the poem offers a poignant warning on the impermanence of the worldly life and the necessity…

← Browse
Jagah Ji Laganay Ki

Jagah Ji Laganay Ki

Nasheeds 7:52 2019
AI-Enriched85%
OccasionShab-e-Barat
Instruments
vocal-only

Credits

LyricistKhwaja Azizul Hasan Majzoob
ProducerHeera Gold
LabelHeera Gold

Story & Cultural Context

A famous spiritual Urdu kalam titled 'Jagah Ji Laganay Ki Duniya Nahi Hai', recited by Imran Shaikh Qadri and released by Heera Gold for Shab-e-Barat 2019. Authored by Sufi poet Khwaja Azizul Hasan…

Titles in Other Languages

العربيةمكان ليس لربط القلب به
EnglishThis World Is Not a Place to Attach Your Heart
TürkçeBu Dünya Gönül Bağlanacak Yer Değildir

Lyrics

اللہ اللہ کرے بندے اللہ اللہ کرے اللہ اللہ کرے بندے اللہ ہی سے ڈرے اللہ اللہ کرے بندے اللہ اللہ کرے اللہ اللہ کرے بندے اللہ ہی سے ڈرے ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے سونے والے رب کو سجدہ کر کے سو کیا خبر اٹھے نہ اٹھے صبح کو کیا خبر اٹھے نہ اٹھے صبح کو جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے جہاں میں عبرت کے ہر سو نمونے مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ بونے کبھی غور سے بھی یہ دیکھا ہے تو نے جو آباد تھے وہ محل اب ہیں سونے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے ملے خاک میں اہل شاکر سے کیسے مکی ہو گئے نا مکہ کیسے کیسے ہوئے نامور بے نشان کیسے کیسے سمیخہ گئی نوجوان کیسے کیسے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے عجل نے نہ کسی کا بھی چھوڑا نہ دارا اسی سے سکندر ساتھ فاتح بہارا ہر اک چھوڑ کے کیا حسرت سے دھارا پڑا رہ گیا بس یہی تھاٹھ سارا جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے تجھے پہلے بچپن میں برسوں کھلایا جوانی میں پھر تجھ کو مجنو بنایا بڑھاپے نے پھر آکے کیا کیا ستایا عجل تیرا کردے گی بلکل صفایا یہی تجھ کو دھن ہے رہو سب سے بالا ہو زینت نرالی ہو فیشن نرالا جیا کرتا ہے کیا یوں ہی مرنے والا تجھے اس نظاہر نے دھوکے میں ڈالا جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے جب اس بزم سے اٹھ گئے دوست یا اکثر اور اٹھتے چلے جا رہے ہیں برابر یہ ہر وقت پیشے نظر جب ہے منظر یہاں پر تیرا جی بہلتا ہے کیوں پھر جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے