Skip to main content
Ramzan Special Heart Touching Kalam - Jo Lamhay Thay - Rizwan Qadri - Heera Gold cover art

Ramzan Special Heart Touching Kalam - Jo Lamhay Thay - Rizwan Qadri - Heera Gold

by Heera Gold

Album: Nasheeds

Duration: 9:45

Genre: nasheed, naat, hamdYear: 2021Type: nasheed

Story & Cultural Context

A soul-stirring Urdu kalam and naat titled 'Jo Lamhay Thay' performed by renowned reciter Rizwan Qadri. Released by Heera Gold as part of their Ramadan special offerings, it reflects on lost moments and spiritual devotion.

← Browse
Ramzan Special Heart Touching Kalam - Jo Lamhay Thay - Rizwan Qadri - Heera Gold

Ramzan Special Heart Touching Kalam - Jo Lamhay Thay - Rizwan Qadri - Heera Gold

Nasheeds 9:45 2021
AI-Enriched85%
OccasionRamadan
Instruments
vocal-only

Credits

ProducerHeera Gold
LabelHeera Gold

Story & Cultural Context

A soul-stirring Urdu kalam and naat titled 'Jo Lamhay Thay' performed by renowned reciter Rizwan Qadri. Released by Heera Gold as part of their Ramadan special offerings, it reflects on lost moments…

Titles in Other Languages

EnglishThe Moments That Were

Lyrics

عاجب مجھے یہ کشا کے
کسی اجنبی کو دیکھتے ہیں
اور اسے محمد کہہ کر پکارتے ہیں
ساتھی کو یاسد دیکھ
لہٰذا یہ دنیا کا واردش ہے
بسمار مہمان ہر اجنبی کو محمد
اور ہر ساتھی صدق
انصار نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرے کی
اور یہ کہہ فلیں
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمانوں کے لئے دعا کیا کریں
رمضان میں عمرہ مبارک ہو
شاہِ خردو نوش لے کر
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم حاضر ہو جاتا
دستوران یہ چاہ دیے جاتے
میزبانوں کو بچے
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمانوں
ستونوں اور دروازوں میں کھڑے ہو جاتے
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جو بھی مہمان دروازہ کرتا
تو اس کی ٹانگوں سے لپٹ کر فریادیں کر رہے ہوتے
مہمان در کا خبول کر لے
اور میزبان کے چہرے پر روشنی پھیل جاتی
نمازوں کر دے تو میزبان کی پلکیں بھیگوں جاتی
میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہوا
کوئی سات آٹھ برس کا بچہ میری ٹانگ سے لپٹ گیا
وہ بڑی محبت سے کہنے لگا
سچا آپ میرے ساتھ بیٹھیں گے
یہ سن کر میں حضور نے ایک میٹھی گودھ سولہ لفظ اٹھا
میں جھک کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا
اور سوچا یہ لوگ واقع ہی مصطفیٰی ہیں
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے معاشرے
جھک کر ان کے چہرے اتارتے
اور ترتبیبوں پر سجتے تھے
روان روزائے کو حقیقی میں اتراوازا ہے
بابے جبریل
آپ صلی اللہ علیہ وسلم
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حجرہ مبارک میں قیام فرما ہوتے
افتار کا وقت ہوتا تو طرخان بستا گھر میں موجود چند خجوریں اور دودھ کا ایک آد پیالہ اس طرخان پر چن دیا جاتا
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آزان کے لئے کھڑے ہوتے تو آپ فرماتے عائشہ باہر دیکھو باب جبرایل کے پاس کوئی مسافر تو نہیں؟
آپ اٹھ کر دیکھتی واپس آ کر ارز کرتی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ایک مسافر بیٹھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خجوریں اور دودھ کا وہ پیالہ باہر بجوا دیتے میں جو ہی باب جبرایل کے قریب پہنچا میرے پیارے کے لاکھوں سے ریانوں کی ہڈیوں تک ہر چیز پتھر ہو گئی میں وہیں بیٹھ گیا باب جبرایل کے اندر ذرا سا ہٹ کے
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے حجرے میں میرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما ہو رہے تھے
میں نے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا آج بھی رمضان ہے ابھی چند لمحوں بعد آزان ہوگی ہو سکتا ہے آج بھی میرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ سے پوچھیں ذرا دیکھئے باہر کوئی مسافر تو نہیں اور ام المومنین عرض کریں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر ایک مسافر بیٹھا ہے شکل سے مسکین نظر آتا ہے نادم ہے شرمسار ہے تھکا ہارا ہے سوال کرنے کا حوصلہ نہیں بیبسی ہے لیکن مانگنے کی جرت نہیں لوگ یہاں کشکول لے کر آتے ہیں یہ تو خود کشکول بن کر آیا ہے اس پر رحم فرمائیں یا رسول اللہ بیچارہ سوالی ہے بیچارہ بیکاری ہے اور پھر میرا پورا وجود آنکھے بگیا اور سارے آزاں آنسوں
جو لمحے تھے سکون کے وہ مدینے میں گزار آئے
گلے منتظر وطن میں اب تجھے کیسے قرار آئے
جو لمحے تھے سکون کے وہ مدینے میں گزار آئے
جو لمحے تھے سکون کے وہ مدینے میں گزار آئے
فیضا کو حکم ہے داخل نہ ہوتا ہے با
کی گلیوں میں اجازت ہے نسیمہ سبا
بہار آئے اجازت ہے نسیمہ سبا
بہار آئے جو لمحے تھے سکون کے وہ مدینے میں گزار آئے
وہ بستی اہل دل کی اور دیوانوں کی بستی ہے
گئے جتنے خیرتنازہ وہ دامن تار تار آئے
جو لمحے تھے سکون کے وہ مدینے میں گزار آئے
جو بھی ہو ان کے در پر ہاتھ میں روزے کی جاری ہو
یہ لمحے زندگی میں اے خدا یا بار بار آئے
جو لمحے تھے سکون کے وہ مدینے میں گزار آئے
کلم جب سے ہوا ہے خم عدیبہ کا
کی مدحت میں بڑے رنگی ہوئے مجموع بڑے ناشو نگارا آئے
بڑے رنگی ہوئے مجموع بڑے ناشو نگارا آئے
جو لمحے تھے سکون کے وہ مدینے میں گزار آئے
جو لمحے تھے