
Genre: nasheed, naatYear: 2019Type: nasheed
Story & Cultural Context
'Taiba K Janay Walay' is an Urdu naat recited by Syed Arsalan Shah and released by Heera Gold in 2019. It expresses deep love, longing, and reverence for the Islamic holy city of Madinah (Taiba) and the Prophet Muhammad.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
LabelHeera Gold
Featured Artists
Syed Arsalan Shah
Story & Cultural Context
'Taiba K Janay Walay' is an Urdu naat recited by Syed Arsalan Shah and released by Heera Gold in 2019. It expresses deep love, longing, and reverence for the Islamic holy city of Madinah (Taiba) and…
Titles in Other Languages
EnglishO Visitors of Taiba
Lyrics
طیبہ طیبہ طیبہ طیبہ گناہ لوٹتے مجہے ایسا ہے پھر رو پہ مدینے میں پھر بھی روتا ہوا وہاں ہوں تیرے در پہ مدینے میں طیبہ کے جانے والے جا کر بڑے عدب سے میرا بھی گیس آئے کی کہنا شاہے عرب سے طیبہ کے جانے والے امت کے شانِ عالی قدم جو غم کا مارا ان کو جہاں میں سلسل کا سایا بھی گیسمارا گانا کہناتے پُل علم سے ہی ہر دم غم سے درا دے اولی کا پِدِلبوں سے ساری آدھ کھرائے بادے گناہ کا اپنا دے دوش پر چھوپائے کوئی نہیں ہے ایسا جو مجھ میں کھوائے بکتے کا غم مسافر منزل کو ڈھونڈتا ہے تارے کیوں میں مانگیں کامل کو ڈھونڈتا ہے سن لے میرے دل کا دل سے صدا آنا توفیقِ طریقہ فردہ دے خوش لونہ نہ میری نظری سے ترودر کو کوئی سرس جدوی کا بیٹا بوسرکار میرے سرس غلام سارے سرس طیبہ کے جانے والے جا کر بڑے عدب سے میرا بھی گیس آئے کی کہنا شاہے عرب سے طیبہ کے جانے والے کعبہ کعبہ میں تو غریب جاں میں تمہیں ہی بتاواں آقا جاں ہوں بھنا کعبہ میں نقشوں سے تلاساں دنیا کے ایک دھوکا مطلب کی آرزے سب سے کوئی نہیں کسی کسی کا سب کو میں اپنا جاں ہوں سب سے میں ہوں سارا مجھ کو تمہارے آقا ہے آپ کا سارا تم میری سنوگے میری تم میری کرم کروگے بولوں جب آدھ تمہیں میرے اپنا بناوں گے تم دونے سارے عالم میں اک نہیں بے فرض تم بے کسو کی فائز میں بے نفس عبادی غم سیوں کی یارا رہی جو کا مارا رحمت کو دوسرا سپا سب کو کرم کی بھاتا ہو چہروں کو سارے یک با یک آرزوں کی سب سے میرا بھی گیس آئے کہنا شاہے عرب سے طیبہ کے جانے والے جا کر بڑے عدب سے میرا بھی گیس آئے کی کہنا شاہے عرب سے طیبہ کے جانے والے ایسا سنیں مظیبہ جاں تر نبی سے کہیں ناں سو سے استقبال ہم سے سب جل رہاتے کسے کہ دمنا دل میں لاکھوں عدماں بڑے ہوئے ہیں کہ دنہاں کے دل سے بھی سوکے نہ اس طرح سے جتے ہوئے ہیں ہے آرزو یہ دل کی میں بھی مدینے جاؤں سب ساز دو جہاں کو سب رزاد دکھاؤں کاتوں گا سارے جتے طیبہ کی گھرِ گلی میں آنکھوں میں ساز دوہوں گا ہایوں گا زندگی کے قولوں پہ دھروں سار کندوں پہ بھیل کو باروں زلفوں سے روح داروں میں سر کی کروں گلامی دیواروں دل کو جوں قدموں پہ سرکونہ کر دوں مغبوں پہ سیلی فٹکیں روتا رہوں برابر آنکھوں کے دل میں گھنیں مصیب دارے توں سے میرا بھی گیس آئے کہنا شاہے عرب سے طیبہ کے جانے والے جا کر بڑے عدد سے میرا بھی گیس آئے کہنا شاہے عرب سے طیبہ کے جانے والے ہے آزمے مدینہ جاں تر نبی سے کہنا سو سے استقبال ہم سے سب جل رہاتے کسے کہ دمنا دل میں لاکھوں عدماں بڑے ہوئے ہیں کہ دمنا دل سے بھی سوکے نہ استرس جتے ہوئے ہیں ہے آرزو یہ دل کی میں بھی مدینے جاؤں سب ساز دو جہاں کو سب رزاد دکھاؤں کٹوں گا سارے چتیں تیبہ کی گھرِ گلی میں آنکھوں میں سار دھوں گا ہایوں گا زندگی کے قولوں پہ دھروں سار کندوں پہ بھیل کو باروں زلفوں سے روح داروں میں سر کی کروں گلامی دیواروں دل کو جوں قدموں پہ سرکونہ کر دوں مغبوں پہ سیلی فٹکیں روتا رہوں برابر آنکھوں کے دل میں گھنیں مصیب دارے توں سے میرا بھی گیس آئے کہنا شاہے عرب سے طیبہ کے جانے والے جا کر بڑے عدد سے میرا بھی گیس آئے کہنا شاہے عرب سے طیبہ کے جانے والے