
Genre: nasheed, naat, madihYear: 2020Type: nasheed
Story & Cultural Context
'Ya Shah e Madina' is a popular classical Urdu Naat expressing deep devotion and desire to visit the holy city of Medina and honor the Prophet Muhammad. Muhammad Hassan Raza Qadri's rendition is widely acclaimed across South Asia for its soulful vocal performance.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
LyricistTraditional
LabelHeera Gold
Story & Cultural Context
'Ya Shah e Madina' is a popular classical Urdu Naat expressing deep devotion and desire to visit the holy city of Medina and honor the Prophet Muhammad. Muhammad Hassan Raza Qadri's rendition is…
Titles in Other Languages
العربيةيا شاه مدينه
EnglishO King of Medina
TürkçeEy Medine'nin Şahı
Lyrics
یا رب مدینہ مجھے در پہ بلانا یا رب مدینہ مجھے در پہ بلانا سب ختم مدینے جا کے اے خدا سب ختم مدینے جا کے اے خدا آقا لینا سب موں کو دُھوانا یا نبی ﷺ سلام علیکا یا رسول ﷺ سلام علیکا سب ختم مدینے جا کے یا نبی ﷺ سلام علیکا یا رسول ﷺ سلام علیکا یا شاہِ مدینہ مجھے در پہ بلانا یا شاہِ مدینہ مجھے در پہ بلانا سبز گمبت کے منزل پھر امیلا سری کے سہارا ملیں گے ہم پکاریں گے ہم دور سے راستے میں اگر بھٹک جائیں گے جیسے یہ سب کو مطمئن آئے گا بندگی کا قرینا بدل جائے گا سجدوں میں کی پوری سک ملے گی کسے خود پر غزت سجدے ٹپا کر جائیں گے ایک بار عطا ہو اب شربِ حضوری تباس خدارا مٹ جائے دوری تباس خدارا مٹ جائے دوری کبھی میں بھی دیکھوں جنت کے کیاری میں دھام کے جاوے کر فورس گزاری کچھ خواب ادھورے میرے سرکار کرم فرمانا یا شاہِ مدینہ مجھے در پہ بلانا گلیوں میں گھوم گھوم کر آئیں مدینہ چوم کر آنکھوں سے لگائیں گے آنکھوں سے لگائیں گے اس شہر کی مٹی اس شہر کا پانی وہ شہر کرم ہے آقا کے نشانی میں خاک مدینہ آنکھوں سے لگاؤں کبھی رستے چوموں کبھی واری جاؤں بس رب زینے میں اس در کے کبھی دربجے کچھ کرنا یا رسول اللہ یا رحمت اللہ یا کروپ یاد ردی حسرت جالیہ دل میں کروائے جماعتی حسرت جالیہ ایک عاشق مواجہ ہو سامنے میرے رو رو کے سناوں جیویں کے جلیے کبھی دیکھوں خود کا کبھی دیکھوں جالی کہاں رہ کے جو گھٹ کہاں دل سوالی پھر وقت کزا جائے ہو جانو نے خدا نا یا شاہ مدینہ مجھے در پہ بلانا یا شاہ مدینہ مجھے در پہ بلانا یا نبی سلام علیکم یا رسول اللہ سلام علیکم ہائے اگر یہ دل مدینہ تجھے بناتے بے خبرہ ہاں تیری یاد بے بن کے دکھا ایک آس پرانی اسران سفزینہ ہو جائے میرے سہیں لمحہ سارے مدینہ ہو جائے میرے سہیں لمحہ سارے مدینہ گمبت کے تلے ہائے بارتا کھرمن وہ تازہ کچھونیں وہ آب زمزم میں زلحے گمبت خزرہ پر ہاتھوں میں کھچوں تنگینیں ایک فتا کے گریہ لائیں گے دیکھا ہوں مسجد نبووی میں ایک تاروں سر کی برکت ایک بار میں مجھے دکھلانا یا شاہ مدینہ مجھے در پہ بلانا یا شاہ مدینہ مجھے در پہ بلانا اس در پہ شاہ کرتے غلامی دن رات فرشتے دیتے سلامی پرمون مزا ہے پرکے پمزا ہے اس شہر میں چاندی بھر جینے کو مزا ہے سائے میں کبھی گمبت کے ایک نام لکھے دیوانا یا شاہ مدینہ مجھے در پہ بلانا مجھے در پہ بلانا مجھے در پہ بلانا