
Genre: nasheed, naatType: nasheedComposer: Unknown
Story & Cultural Context
This track is a Naat, a form of Islamic devotional poetry praising the Prophet Muhammad, performed by Rao Brothers. It is part of their singles and reflects traditional Urdu-Arabic styles in nasheed music. The song emphasizes spiritual themes common in Islamic audio content.
← Browse

AI-Enriched70%
Credits
ComposerUnknown
LyricistUnknown
ArrangementUnknown
ProducerUnknown
LabelWithout label
Story & Cultural Context
This track is a Naat, a form of Islamic devotional poetry praising the Prophet Muhammad, performed by Rao Brothers. It is part of their singles and reflects traditional Urdu-Arabic styles in nasheed…
Titles in Other Languages
العربيةUnknown
EnglishI Recite the Praises of the Prophet
TürkçeUnknown
Lyrics
نام محمدؑ پہ سللے آیا آنکھوں کی تھندک دل کی جلا یہ نام کوئی کام بگڑنے نہیں دیتا بگڑے بھی بنا دیتا ہے بس نام محمدؑ آتے سرکار کی پڑھتا ہوں میں بس کیسی نام سے گھر میں میرے رونق ہوگی اک تیرا نام وسیلہ ہے میرا رنج و غم میں بس کیسی نام سے راحت ہوگی ان کو مختار بنایا ہے میرے مولا نے فلک میں بس وہی جا سکتا ہے اس کو سندھے نے کے باپا کی اجازت ہوگی آتے سرکار کی پڑھتا ہوں میں بس کیسی نام سے گھر میں میرے رونق ہوگی یا محمدؑ محمدؑ میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی آیتوں سے ملا کرتا رہا آیتیں جو دیکھا تو نات نبی بن گئی یا محمدؑ محمدؑ میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی جو بھی آسوب ہے میرے محبوب کے سب سب رحمت کے چھیتیں بنے آ گئی رات جب سفلے را گئی جب تب سن کی آتار بنی بن گئی یا محمدؑ محمدؑ میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی یا محمدؑ محمدؑ میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی یہ سنا ہے کہ بہت گور اندھری ہوگی کب رکھا خوف نہ رکھنا اے دل وہاں سرکار دو عالم کی زیارت ہوگی آتے سرکار کی پڑھتا ہوں میں وسیسی نام سے گھر میں میرے رونک ہوگی جب چڑھا دسترہ اس نے محبوب کا ودوحا کہہ دیا والقمر پڑھ لیا آیتوں کی تلاوت بھی ہوتی رہی نات بھی بن گئی بات بھی بن گئی شاہ محمد محمد میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی شاہ محمد محمد میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی حشر کا دن بھی عجب دیکھنے بالا ہوگا صفینے راتیں وہ جب لائیں گے قیامت نبی کے اور قیامت ہوگی آتے سرکار کی پڑھتا ہوں میں وسیسی نام سے گھر میں میرے رونک ہوگی صفینے راتیں وہ جب لائیں گے قیامت ہوگی میری حالت پہ ان کو رحم آ گیا میری قسمت میری بے بسی بن گئی قربان میں ان کی باتی شکے مقصد بھی زبان پر آیا نہیں قربان میں ان کی باتی شکے مقصد بھی زبان پر آیا نہیں بن مانگے دیا اور ایک نہ دیا دعوان میں ہمارا سے سام آیا نہیں نات سرکار کی پڑھتا ہوں میں بسیسی نام سے گھر میں میرے رونک ہوگی بسیسی نام سے گھر میں میرے رونک ہوگی بسیسی نام سے گھر میں میرے رونک ہوگی