
Genre: nasheedYear: 2020Type: nasheedComposer: Unknown
Story & Cultural Context
Sarkar Kuch To Kehdo by Rao Brothers is a popular Islamic nasheed that blends Arabic and Urdu languages, likely praising the Prophet Muhammad or seeking divine intervention, reflecting themes common in devotional music. It is part of their singles collection and has gained traction in online…
← Browse

AI-Enriched70%
Genre
Instruments
vocal-only
Credits
ComposerUnknown
LyricistUnknown
ArrangementUnknown
ProducerUnknown
LabelWithout label
Story & Cultural Context
Sarkar Kuch To Kehdo by Rao Brothers is a popular Islamic nasheed that blends Arabic and Urdu languages, likely praising the Prophet Muhammad or seeking divine intervention, reflecting themes common…
Titles in Other Languages
العربيةUnknown
EnglishSarkar, Please Say Something (approximate translation)
TürkçeUnknown
Lyrics
یا نبی نبی نبی یا نبی نبی نبی یا نبی نبی نبی یا نبی سرکار کچھ تو کہہ دو ہوگی نہ نظر کب تک فرقت میں مر رہا ہوں یہ درد جگر کب تک سرکار کچھ تو کہہ دو ہوگی نہ نظر کب تک فرقت میں مر رہا ہوں یہ درد جگر کب تک روتا رہوں گا کا تڑپتا رہوں گا میں کب تک نہ تم سنو گے یہ دیدائے تر کب تک فرقت میں مر رہا ہوں یہ درد جگر کب تک سرکار کچھ تو کہہ دو ہوگی نہ نظر کب تک فرقت میں مر رہا ہوں یہ درد جگر کب تک کرم ہو کرم ہو کرم دل شاد میرا کر دو جلووں کے توبہ سم سے دل شاد میرا کر دو جلووں کے توبہ سم سے دیکھو گلی میں مولا ہوگا نہ گزر کب تک فرقت میں مر رہا ہوں یہ درد جگر کب تک سرکار کچھ تو کہہ دو ہوگی نہ نظر کب تک فرقت میں مر رہا ہوں یہ درد جگر کب تک یا نبی نبی نبی یا نبی نبی نبی یا نبی نبی نبی یا نبی ایک بار یوں بلاؤ واپس کبھی نہ لوٹوں آؤں میں میری آقا ہوگا نہ اثر کب تک فرقت میں مر رہا ہوں یہ درد جگر کب تک سرکار کچھ تو کہہ دو ہوگی نہ نظر کب تک فرقت میں مر رہا ہوں یہ درد جگر کب تک سرکار کچھ تو کہہ دو ہوگی نہ نظر کب تک فرقت میں مر رہا ہوں یہ درد جگر کب تک مدکار بے عمل کی گٹھری میں اور کیا ہے ہاں سی کی گناہوں سے ہوگی نہ سہر کب تک فرقت میں مر رہا ہوں یہ درد جگر کب تک سرکار کچھ تو کہہ دو ہوگی نہ نظر کب تک فرقت میں مر رہا ہوں یہ درد جگر کب تک سرکار کچھ تو کہہ دو ہوگی نہ نظر کب تک فرقت میں مر رہا ہوں یہ درد جگر کب تک فہمی پیا تمہارا منگتا ہوں جھولی بھر دو دیتا رہوں گا دستک ہوگی نہ خبر کب تک فرقت میں مر رہا ہوں یہ درد جگر کب تک سرکار کچھ تو کہہ دو ہوگی نہ نظر کب تک فرقت میں مر رہا ہوں یہ درد جگر کب تک سرکار کچھ تو کہہ دو ہوگی نہ نظر کب تک کرم ہو کرم ہو کرم معروف ہے تمہارا الفت کی لاج رکھ لو قدموں میں میرے مولا ہوگا نہ گزر کب تک فرقت میں مر رہا ہوں یہ درد جگر کب تک سرکار کچھ تو کہہ دو ہوگی نہ نظر کب تک فرقت میں مر رہا ہوں یہ درد جگر کب تک یا نبی نبی نبی یا نبی نبی نبی یا نبی نبی نبی یا نبی