
New Muharram Kalaam - Karbala Ki Khaak Par - Muhammad Molana Bilal Raza Qadri - Heera Gold
by Heera Gold
Album: Nasheeds
Genre: nasheed, naatYear: 2018Type: nasheed
Story & Cultural Context
A prominent Urdu Shia/Sunni devotional kalam commemorating the tragic events of Karbala and the sacrifice of Imam Hussain. Released by Heera Gold, this track features recitation by Maulana Bilal Raza Qadri in honor of Muharram.
← Browse

New Muharram Kalaam - Karbala Ki Khaak Par - Muhammad Molana Bilal Raza Qadri - Heera Gold
AI-Enriched85%
Credits
ProducerHeera Gold
LabelHeera Gold
Story & Cultural Context
A prominent Urdu Shia/Sunni devotional kalam commemorating the tragic events of Karbala and the sacrifice of Imam Hussain. Released by Heera Gold, this track features recitation by Maulana Bilal Raza…
Titles in Other Languages
EnglishOn the Dust of Karbala
Lyrics
يا حسين بن علي امام آلِ مقام امام عرش مقام امام تشنقا امام غمقا موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے کربلا کی ذات پر ابنِ علی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے تشنگی زندگی کے میکدوں کے اورتینوں کے گا پھر بھی ارے لیبت کا پانی آدمی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے کربلا کی ذات پر ابنِ علی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے فضلِ یونکا کے دینِ حق پہ قربان ہو گئے شکر ہے کہ اس وقتِ موت بھی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے کربلا کی ذات پر ابنِ علی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے بندگی تو دیکھئے اُس فاطمہ کے لال کی زندگی سجدوں میں گزری موت میں سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے کربلا کی ذات پر ابنِ علی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے دینا دھا کے کربلا کا ذرہ ذرہ آئے پیا زندگی کا ہے مزا چاشنی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے کربلا کی ذات پر ابنِ علی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے دشتِ غم میں حسن و رنگ کی خوب گھنہ نایان باغِ زہرہ کا غنی کے گل ہے کلی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے کربلا کی ذات پر ابنِ علی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے دیکھ لو راشد حیات دے دائمی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے کربلا کی ذات پر ابنِ علی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے