
Genre: nasheed, naat, madihType: nasheed
Story & Cultural Context
A traditional Urdu Islamic nasheed/manqabat commemorating the sacrifices of Hazrat Imam Hussain (R.A) and his companions at the tragedy of Karbala.
← Browse

AI-Enriched70%
Story & Cultural Context
A traditional Urdu Islamic nasheed/manqabat commemorating the sacrifices of Hazrat Imam Hussain (R.A) and his companions at the tragedy of Karbala.
Titles in Other Languages
EnglishOn the Dust of Karbala
Lyrics
يا حسين بن علي امام آلِ مقام امام عرش مقام امام تشنقا امام غمقا موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے کربلا کی ذات پر ابنِ علی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے تشنگی زندگی کے میکدوں کے اورتینوں کے گا پھر بھی ارے لیبت کا پانی آدمی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے کربلا کی ذات پر ابنِ علی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے فضلِ یونکا کے دینِ حق پہ قربان ہو گئے شکر ہے کہ اس وقتِ موت بھی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے کربلا کی ذات پر ابنِ علی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے بندگی تو دیکھئے اُس فاطمہ کے لال کی زندگی سجدوں میں گزری موت میں سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے کربلا کی ذات پر ابنِ علی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے دینا دھا کے کربلا کا ذرہ ذرہ آئے پیا زندگی کا ہے مزا چاشنی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے کربلا کی ذات پر ابنِ علی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے دشتِ غم میں حسن و رنگ کی خوب گھنہ نایان باغِ زہرہ کا غنی کے گل ہے کلی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے کربلا کی ذات پر ابنِ علی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے دیکھ لو راشد حیات دے دائمی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے کربلا کی ذات پر ابنِ علی سجدے میں گئے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے موت سے بے خطر جو زندگی سجدے میں ہے