Skip to main content
Hussain Karey (feat. Muhammad Farooq & Muhammad Shafiqe Qasmi) cover art

Hussain Karey (feat. Muhammad Farooq & Muhammad Shafiqe Qasmi)

by Heera Gold

Album: Nasheeds

Duration: 7:06

Genre: nasheed, naatYear: 2019Type: nasheed

Story & Cultural Context

This is a Shia/Sufi devotional Urdu Kalaam (Hussain Karey) recited by Muhammad Farooq and Muhammad Shafiqe Qasmi, dedicated to Imam Hussain and the events of Karbala. It was released by the Heera Gold label specifically for the month of Muharram in 2019.

← Browse
Hussain Karey (feat. Muhammad Farooq & Muhammad Shafiqe Qasmi)

Hussain Karey (feat. Muhammad Farooq & Muhammad Shafiqe Qasmi)

Nasheeds 7:06 2019
AI-Enriched85%
OccasionMuharram
Instruments
vocal-only

Credits

ProducerHeera Gold
LabelHeera Gold

Story & Cultural Context

This is a Shia/Sufi devotional Urdu Kalaam (Hussain Karey) recited by Muhammad Farooq and Muhammad Shafiqe Qasmi, dedicated to Imam Hussain and the events of Karbala. It was released by the Heera Gold…

Titles in Other Languages

EnglishHussain Karey

Lyrics

حسن حسن صدیقہ سے حیاء کرتی رہے
سبی تصدیق تیرا ہے نام چلتی رہے
یہ باطلوں کا اب آپ خود سہن کے خس
مصطفی کے آکے ادس چلا انسواہ بچلتی رہے
زوبدر زوبہ بستی پیگم بڑھتا رہے
زوبدر زوبہ بستی پیگم بڑھتا رہے
ہے یہ فاروق عثمان کی دل کی صدا
کیوں نہ پھر گوشہ گوشہ غم سے سجائیں
کیوں نہ پھر گوشہ گوشہ غم سے سجائیں
تیرے ہی گھر سرے نگے گھر پر رہیں
نوری نانا ہے نانا سب سے برزے گی
فاتحہ بھرزبابا کھومہ فاتحہ ماں
کیوں نہ پھر گوشہ گوشہ غم سے سجائیں
اتنے حیدر فیلہ کو خروڑوں سلام
ان کے جوڑا ٹکے عظمت سے لاکھوں سلام
رشمہ نے دین کا کر دیا خاتمہ
کیوں نہ پھر گوشہ گوشہ غم سے سجائیں
وشہ دل پہ وہ امت غم سے لگم تیری
توفی اور بادشاہ ختم کرم تیری
تیری عزت پہ سرحیں سر بھی کھا چکا
کیوں نہ پھر گوشہ گوشہ غم سے سجائیں
تیرے بھی ظلم کیا تھی اصلاح غم سے
کتنی عالم عقیدت گئی اصلاح غم سے
جان دے کر کری تم نے روشن شمع
کیوں نہ پھر گوشہ گوشہ غم سے سجائیں
تم نے نانا کا وعدہ وفا کر دیا
تاج و دل میں فیرادہ ادا کر دیا
خوش ہے نانا فیرادہ رفیدر فاطمہ
کیوں نہ پھر گوشہ گوشہ غم سے سجائیں
پڑھ رہا ہے زمین ان کی دہلیز سے
گویا ان کی عطا مصطفی کی عطا
کیوں نہ پھر گوشہ گوشہ غم سے سجائیں
تم غم کی ساغر کو فرحت سے نیکھی
تم غم کے جام کو فرحت سے نیکھی
جب قربان میں نہ ہوئے تو پھر بخشل کے
شریعہ تہلا واسے اس ملکے
یا رفیق یا فاطمہ
یا رفیق یا فاطمہ
نفرت زمین دل پہ اور بھی گہرا لگا دیا
نفرت زمین دل پہ اور بھی گہرا لگا دیا
مسے غفلے جفری کا استے کیا یہ حاج را
آخر کہاں تم سانی سے بھرا
گم کی صدای دینے کناہ دی کی سوا
روک میں نے تنہائی میں مولانے
قافلہ دل کی غم ہاری میں دل کا راں ہے
ماراش
مسے فیس پے کے برچ بے مثال ہے
ماراش