
Genre: nasheed, naatYear: 2020Type: nasheed
Story & Cultural Context
'Hum Ishq Walay' is a popular Pakistani Urdu Naat performed by Muhammad Hassan Raza Qadri. Released by Heera Gold for the Rabi-ul-Awwal season (celebrating the birth of Prophet Muhammad), the track expresses deep devotional love for the Holy Prophet.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
LabelHeera Gold
Featured Artists
Muhammad Hassan Raza Qadri
Story & Cultural Context
'Hum Ishq Walay' is a popular Pakistani Urdu Naat performed by Muhammad Hassan Raza Qadri. Released by Heera Gold for the Rabi-ul-Awwal season (celebrating the birth of Prophet Muhammad), the track…
Titles in Other Languages
EnglishHum Ishq Walay
Lyrics
جس نے ملا دوڑو بھی ہے نور کی چادر تنی ہے روشنی ہے روشنی ہے ہر سمت دھوم مچی ہے چلو ملا دوڑو مناتے ہیں اس پھول جیسا چہرے کا مدرسہ سجے گا یہ شان رضا کے جشن کا جھوٹا نہ رکے گا اب بچ بھی ملا دوڑو میں پیچھے نہ رہیں گے ہم غیر کتنا جشن مصطفیٰ کو دکھائیں گے ہم عشق والے عشق کا اظہار کریں گے ملاد بڑی دھوم سے سوار کریں گے ہم عشق والے عشق کا اظہار کریں گے ملاد بڑی دھوم سے سوار کریں گے ہم غیر مصطفیٰ پر ہوا پر ہوا کرتے رہیں گے کرتے رہے بال کے یہ شیطریت ہے یہ دریبل کے یہ دھوم کی دھد ہے جائیں گے جلوسوں میں نئے کپڑے پہن کر سب سے بڑا جشن عید میلاد منائیں گے چلو ملاد مناتے ہیں ہم عشق والے عشق کا اظہار کریں گے ملاد بڑی دھوم سے سوار کریں گے ہم عشق والے عشق کا اظہار کریں گے ملاد بڑی دھوم سے سوار کریں گے ہاں میرے آقا آگئے میرے مولا آگئے نور جہاں آگئے نور الہدہ آگئے شمس الدہا آگئے چون سرور کونین کا ملاد کرے گا ڈاہل میں بوسروں کو نور شاعف رہے گا ملتا کے کتابوں میں فرماں دے وشاہی فرماں ملاد والے دن کی مرادوں کو پائیں گے ہم عشق والے عشق کا اظہار کریں گے ملاد بڑی دھوم سے سوار کریں گے ہم عشق والے عشق کا اظہار کریں گے ملاد بڑی دھوم سے سوار کریں گے عشق محمد کے مقاصد تے رہیں گے اور جھنڈے و غلوں میں ارے لگتے رہیں گے اب آپ کی محبت میں چراغاں بھی کریں گے محفوظ رضا کے نعرے نبی بھی سنائیں گے ہم عشق والے عشق کا اظہار کریں گے ملاد بڑی دھوم سے سوار کریں گے ہم عشق والے عشق کا اظہار کریں گے ملاد بڑی دھوم سے سوار کریں گے ہاں میرے آقا آگئے میرے مولا آگئے نور جہاں آگئے نور الہدا آگئے شمس الدہا آگئے سرکار کی امت پجنا بھی سجی تھی کعبہ بھی سجا بلکہ گلی گلی سجی تھی جب جات جنابِ حبیب گھومتی تھی محبوبِ خدا دنیا میں تشریف لائیں گے جشن نبی منانے والے ہیں جو صدا مناتے رہیں گے ہم عشق والے عشق کا اظہار کریں گے ملاد بڑی دھوم سے سوار کریں گے ہم عشق والے عشق کا اظہار کریں گے ملاد بڑی دھوم سے سوار کریں گے جس نے ملا دوڑو بھی ہے نور کی چادر تنی ہے روشنی ہے روشنی ہے ہر سمت دھوم مچی ہے دل میں خوشی چہروں پہ مسکان سجی ہے ملاد میں ان شاک کی بے جان یہی ہے عرفان ہے دھوم مچاتے کی گھڑی میں ہم سر کے یار زبیب گھومائیں گے ہم عشق والے عشق کا اظہار کریں گے ملاد بڑی دھوم سے سوار کریں گے ہم عشق والے عشق کا اظہار کریں گے ملاد بڑی دھوم سے سوار کریں گے ملاد بڑی دھوم سے سوار کریں گے ملاد بڑی دھوم سے سوار کریں گے چلو ملاد مناتے ہیں