Skip to main content
Teri Kya Baat Hai cover art

Teri Kya Baat Hai

by Adnan Raza Qadri

Album: Nasheeds

Duration: 7:07

Genre: nasheed, naatType: nasheed

Story & Cultural Context

A popular South Asian Naat Shareef performed by Adnan Raza Qadri, praising the attributes and sublime character of the Islamic Prophet Muhammad.

← Browse
Teri Kya Baat Hai

Teri Kya Baat Hai

AI-Enriched70%
Instruments
vocal-only

Credits

LabelWithout label

Story & Cultural Context

A popular South Asian Naat Shareef performed by Adnan Raza Qadri, praising the attributes and sublime character of the Islamic Prophet Muhammad.

Titles in Other Languages

EnglishHow Wonderful You Are

Lyrics

تیری کیا بات ہے، تیری کیا بات ہے، تیری کیا بات ہے، تیری کیا بات ہے، میرے آقا، میرے آقا، میرے آقا، میرے آقا۔
یہاں سودائے گم سے جس میں ہے عرش مزیہ یہ گلی پھر مدینہ دو کیا بات ہے، دائم برکت دستاوں پاؤں ہیں عجم میں سوخ سامن سے ہمسوںیوں نہ دو کیا بات ہے۔
وہ مرد مجھ کو نے نت کا تاج رکھے جس کا دیدار مومن کی میراج رکھے زندگی میں کوثر ہر محصر ہے وہ مرد مجھ کو نے دو کیا بات ہے۔
یہاں سودائے گم سے جس میں ہے عرش مزیہ یہ گلی پھر مدینہ دو کیا بات ہے، دائم برکت دستاوں پاؤں ہیں عجم میں سوخ سامن سے ہمسوںیوں نہ دو کیا بات ہے۔
جس پہ ہو جائے ان کی نگاہِ کرم جاگتے آنکھوں سے چومو میں نبی کے برم جانے والا واپس دل سے جا رہے ہم جا کے پھر بسنا سا ہے دو کیا بات ہے۔
یہاں سودائے گم سے جس میں ہے عرش مزیہ یہ گلی پھر مدینہ دو کیا بات ہے، دائم برکت دستاوں پاؤں ہیں عجم میں سوخ سامن سے ہمسوںیوں نہ دو کیا بات ہے۔
سر سے سر سے وہ فضلِ کرم سر بھی ہو لب پہ تکلیفِ غم آقاں بھر بھی ہو ایسے عالم سے سنب سے ظاہر خوشی ایک ایسا غلبہ سا ہے دو کیا بات ہے۔
یہاں سودائے گم سے جس میں ہے عرش مزیہ یہ گلی پھر مدینہ دو کیا بات ہے، دائم برکت دستاوں پاؤں ہیں عجم میں سوخ سامن سے ہمسوںیوں نہ دو کیا بات ہے۔
اپنا غم اپنا دکھ اپنی مرچے بوریاں اس لیے سب سے رودو کہتا ہوں میں کوئی جا کر سم سے کفی سر سارو میرا دکھ دوسوں سا ہے دو کیا بات ہے۔
یہاں سودائے گم سے جس میں ہے عرش مزیہ یہ گلی پھر مدینہ دو کیا بات ہے، دائم برکت دستاوں پاؤں ہیں عجم میں سوخ سامن سے ہمسوںیوں نہ دو کیا بات ہے۔
اپنی اُلفت کا اپنا سینہ چھاگے خوابوں خواب کے تیبہ میں مل جاؤں میں۔
بعد مرنے کی فرحت بھی ہو میں سے وہ کھوجوں ہوں کے سا ہے دو کیا بات ہے۔
یہاں سودائے گم سے جس میں ہے عرش مزیہ یہ گلی پھر مدینہ دو کیا بات ہے، دائم برکت دستاوں پاؤں ہیں عجم میں سوخ سامن سے ہمسوںیوں نہ دو کیا بات ہے۔
تیری کیا بات ہے، تیری کیا بات ہے، تیری کیا بات ہے، تیری کیا بات ہے، میرے آقا، میرے آقا، میرے آقا، میرے آقا۔