
Genre: nasheedYear: 2020Type: nasheed
Story & Cultural Context
Shikwa Jawab e Shikwa is based on the famous poems by Allama Iqbal, where Shikwa expresses complaints to God and Jawab e Shikwa is God's response, often adapted into nasheeds to convey spiritual themes; this track by Rao Brothers likely presents these poems in a musical format emphasizing Islamic…
← Browse

AI-Enriched70%
Genre
Instruments
vocal-only
Credits
LyricistAllama Iqbal
LabelWithout label
Story & Cultural Context
Shikwa Jawab e Shikwa is based on the famous poems by Allama Iqbal, where Shikwa expresses complaints to God and Jawab e Shikwa is God's response, often adapted into nasheeds to convey spiritual…
Titles in Other Languages
EnglishComplaint and Response to Complaint
Lyrics
کیوں ضیاکار بنوں سود فراموش رہوں ذکر پردا نہ کروں محوے غمے دوش رہوں نال بلبل کے سنوں اور ہم تن گوش رہوں ہم نبا میں بھی کوئی گل ہوں کے خاموش رہوں کیوں ضیاکار بنوں سود فراموش رہوں جرت موز میری تاب سخن ہے مجھ کو شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو تھی تو موجود ازل ہی سے تیری ذات قدیر پھول تازے پہ چمن پر نہ پریشانت شمیر شرط انصاف ہے صاحب الطاف امید بوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نصیم ہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھی ورنہ امت تیرے محبوب کی دیوانی تھی ہم سے پہلے تھا جب تیرے جہاں کا منظر کہیں مسجودے پتھر کہیں معبود شجر فوگرے پے کر محسوس تھی انسان کی نظر مانتا پھر کوئی اندے کے خدا کو کیوں کر تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تیرا قوت بازو مسلم نے کیا کام تیرا اے خدا شکوائے عرباب وفا بھی سن لے فوگرے حمد سے تھوڑا سا گلا بھی سن لے ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مسئیبت کے لیے اور مرتے تھے تیرے نام کی عظمت کے لیے شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاں داروں کی کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی چل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے پاؤں شیروں کے بھی میدان سے اکھڑ جاتے تھے تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھے تو آئی آواز تے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردہ ہو یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو تم سب ہی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو مسجد مرسیہ خا ہے کہ نمازی نہ رہے یعنی وہ صاحب اوساف حجازی نہ رہے کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوہو کلم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوہو کلم تیرے ہیں