
Genre: nasheed, naatYear: 2020Type: nasheed
Story & Cultural Context
A special Naat Sharif recited by Asad Raza Attari & Brothers in praise of the Prophet Muhammad's miraculous night journey and ascension (Isra and Mi'raj). Released under Heera Gold for the occasion of Shab-e-Miraj in 2020.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
ProducerHeera Gold
LabelHeera Gold
Featured Artists
Asad Raza AttariAsad Raza Attari & Brothers
Story & Cultural Context
A special Naat Sharif recited by Asad Raza Attari & Brothers in praise of the Prophet Muhammad's miraculous night journey and ascension (Isra and Mi'raj). Released under Heera Gold for the occasion of…
Titles in Other Languages
العربيةشاه معراج
EnglishShah E Meraj
Lyrics
میراج والے آقا، میراج والے آقا ہے صفوارا سب خوضور ملک اور گل محفوظ درجاتیں ایک گھوم گئے عرشِ آزم پر مہمان خدا کے آتے ہیں شاہِ بیتاج وہ شاہِ میراج وہ شمس و عارق و عامیرِ علم دافعِ غربلا دافعِ غربا دافعِ قرط و امراض و رنج و علم شاہِ میراج وہ شاہِ میراج وہ اسم لکھا گیا اسم اچھا ہوا اسم مغرے قبولِ شفاعت بھی ہے اسم کی برکتیں اسم کی دونکے اسم لوح و قلم کی امانت بھی ہے کیا رب کا عجب سب کے سردار کا ہے مقدر سے بدل ہر مقابل کو وہ جو منور کرے وہ محبتِ وفا کی زسیق ایک کرن شاہِ میراج وہ شاہِ میراج وہ تاجدگاہوں کا سورج وہ جو داب کا آپ ہر شب کے ظلمت کے مہتاب ہے سلسلے بلندیوں رفعت کے گئے تازداری کی دایت کے مہتاب ہے ساری مخلوق کی ہے وہ جائے امام سارے تاریکیوں کے وہ روشن چراغ دیکھ زینت غموں دیکھ اطوار غمے ان کے ہاتھوں میں گئے بخششوں کے آیا شاہی بیت تاج وہ شاہی میراج وہ سر سے پیروں تلک وہ کرم ہی کرم رب حفاظت کرے بے یقین آپ کی ان کے ختمت گزاروں میں جبریل ہے اور سواری خدا کے رزیاں آپ کی سب کا ہے میراج وہ صدرہ تل منتہہ مستقر مقام القہ ہے اپا قوسین کا مرتبہ ان کا مطلوب ہے اور تار السلام ان کا ہے شاہی میراج وہ شاہی میراج وہ اور مطلوب کی ان کا مقصود گئے اور مقصود کی ان کا موجود ہے آپ سارے رسولوں کے سردار ہیں آپ کا صرف اللہ معبود ہے پانس میں سارے نبیوں کے آئے ہیں وہ بخش بائیں کے ہر اک گناہ گار کو ہر مسافر کی کرتے ہیں وہ پاریا رحمتیں باٹتے ہیں وہ سب سارے سو شاہی بیت تاج وہ شاہی میراج وہ عشقوں کے دلوں کی وہ تسکین ہے اور مرادیں ہر ایک صاغب شوق کی حق شنافوں کے خرشید خاور کے وہ صالقین میرے عشق کی روشنی پیار مہتاج مفلس سے مسکین سے ہر مکرب کی وہ رہنمائی کرے جنوں انسان کے سردار دونوں حرم دونوں قبلوں کی وہ پیشوائی کرے دنیا و آخرت کا وسیلہ ہے وہ رتبہ قابقہ سین جن کو ملا دونوں ہی مشرقوں مغربوں کا وہ رب حاصل ان کو خطاب اس کے محبوب کا شاہی بیت تاج وہ شاہی میراج وہ جد امجد ہے حسنین کے اور ہر جنوں انسان کے آقا و مولا ہے وہ باپ قاسم کے بیٹے ہیں عبداللہ کے اور نور الہی کا حصہ ہے وہ ای فدایا نور جمال نبی آپ پہ حالوں اصحاب پر سب گوشہ جنس حق بھیج دے گا کہ بھیجوں پسند اتنا محمدت درود و سلام شاہی میراج وہ شاہی میراج وہ Shahi meraaj wo