Skip to main content
New Heart Touching Kalaam - Jagah Ji Laganay Ki Duniya - Syed Furqan Qadri - Heera Gold cover art

New Heart Touching Kalaam - Jagah Ji Laganay Ki Duniya - Syed Furqan Qadri - Heera Gold

by Heera Gold

Album: Nasheeds

Duration: 6:40

Genre: nasheed, naat, ilahiYear: 2017Type: nasheed

Story & Cultural Context

'Jagah Ji Laganay Ki Duniya Nahi Hai' is a famous spiritual Urdu kalam originally authored by Khwaja Majzoob, focusing on the transience of worldly life and reminding believers of the afterlife. Recited by Syed Furqan Qadri and released via Heera Gold, this track gained widespread popularity across…

← Browse
New Heart Touching Kalaam - Jagah Ji Laganay Ki Duniya - Syed Furqan Qadri - Heera Gold

New Heart Touching Kalaam - Jagah Ji Laganay Ki Duniya - Syed Furqan Qadri - Heera Gold

Nasheeds 6:40 2017
AI-Enriched85%
Instruments
vocal-only

Credits

LyricistKhwaja Majzoob
ProducerHeera Gold
LabelHeera Gold

Story & Cultural Context

'Jagah Ji Laganay Ki Duniya Nahi Hai' is a famous spiritual Urdu kalam originally authored by Khwaja Majzoob, focusing on the transience of worldly life and reminding believers of the afterlife.…

Titles in Other Languages

العربيةجگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
EnglishThis World Is Not a Place to Attach One's Heart
TürkçeDünya Kalp Bağlanacak Yer Değildir

Lyrics

آغا اپنی موت سے کوئی بچا نہیں
ساماں سب رہتا ہے پل کی خبر نہیں
جو دل سے لوگ اٹھتے گئے اک سے
اور چھتے چلے جا رہی تھی برابر
جو پیسے نظر ہو تیرے جبے کے منظر
یہاں پر تیرا ہی بہتاوے کنکر
جگہ دی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ برتے کی جا ہے تماشا نہیں ہے
وقت تیرا باغ میں کوئی دم کا چچا
پل پھلے اڑ جاں گی خاکی چمن رہ جائے گا
موت تیری آنے والی آئے گی
چاند کھیری جانے والی جائے گی
روح نفس سے سے نکالی جائے گی
دھڑک ایک دل ساپٹالی جائے گی
یہ خاک میں ہے نشا کے سکھیں سے
مٹی ہو گئے نام تا کے سکھیں سے
ہوئے نہ ضلبے بھی نشا کے سکھیں سے
سب ہی تھا گئی نا جوان کے سکھیں سے
جگہ دی کر تجھے کو جن ہے روح صبح سے بالا
ہوگی نہ تیری نالی ہو فیصل نرالا
کیا کرتا ہے کیا یوں ہی مرنے والا
تجھے غفلت سانے بھوکی مٹالا
جگہ دی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ برتے کی جا ہے تماشا نہیں ہے
خواب میں میت کو کرنا ہے زرور
جیسی کرنی ویسی بھرنی ہے زرور
ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
یہ بھول کا قتلہ تو یہاں زندہ رہے گا قتلہ
بے وفا دنیا پہ مت کر احتبار
تو اچانک موت کا ہوگا شکار
جہاں میں ہے برتے تیرے ہر سو نمونے
مگر تجھے کو اندھا کیا تمگو بونے
کبھی غور سے یہ بھی دیکھا ہے تم نے
جو آباد تھے وہ ہیں اب سے سونے
جگہ دی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ برتے کی جا ہے تماشا نہیں ہے
اللہ