Skip to main content
Sahara Chahiye cover art

Sahara Chahiye

by Heera Gold

Album: Nasheeds

Duration: 5:40

Genre: nasheed, naatYear: 2020Type: nasheed

Story & Cultural Context

'Sahara Chahiye' is a famous Urdu Naat performed by Muhammad Ibrahim Attari and released by Heera Gold. It expresses deep devotion and a plea for spiritual support and guidance through Islamic vocal praise.

← Browse
Sahara Chahiye

Sahara Chahiye

Nasheeds 5:40 2020
AI-Enriched85%
Occasionramadan
Instruments
vocal-only

Credits

ProducerHeera Gold
LabelHeera Gold

Story & Cultural Context

'Sahara Chahiye' is a famous Urdu Naat performed by Muhammad Ibrahim Attari and released by Heera Gold. It expresses deep devotion and a plea for spiritual support and guidance through Islamic vocal…

Titles in Other Languages

EnglishI Need Support

Lyrics

سہارا چاہے سرکار زندگی کے لیے تڑپ رہا امتی نے کی حاضری کے لیے اے باق تیزانے والے چکر بڑے عدب سے تیرا بھی قصہ غم تیرا شغ عرب سے تیرا کشغ عرب تیرا جوگ مدینہ گھروں جہاں میں جس کا ہے آپ ہی سہارا حالت پہ آنم سے اس دم کو سیر رہا ہے اور کاب تلعب سے فریاد کراں گا اگر بارے میں اپنا ہے توش بھرے لٹا دے کوئی نہیں ہے قسم جو پوچھنے کو آئے نصیب با دون میں میرا بینام ہو جائے نصیب با دون میں میرا بینام ہو جائے تو زندگی کی مدینہ میں شامل ہو جائے سہارا چاہے سرکار زندگی کے لیے تڑپ رہا امتی نے کی حاضری کے لیے تیر روز روں گا جانا سرکار کی گلی میں ہوگا واں ہی ٹھکانہ سرکار کی گلی میں دل میں نبی کی یادے لب پر نبی کی ناتے جانا تو اے سے جانا سرکار کی گلی میں مدینہ جا او پیاراں دوبارہ پھر جاؤں مدینہ جا او پیاراں دوبارہ پھر جاؤں کے زندگی میری یوں ہی تمام ہو جائے کے زندگی میری یوں ہی تمام ہو جائے سہارا چاہے سرکار زندگی کے لیے تڑپ رہا امتی نے کی حاضری کے لیے اے یا حاضری میں مدینہ جا کر نبی سے کہنا سوزے قلب عالم سے اب جوش رہا گم سینا کہنا کے بربادی نے اب دل کی زدہ بھی کرموں سے دور ہوئے قسمت کے نے کلا بھی کہنا کے دل میں میرے ارماں کر گم ہوئے کہنا کے حسرتوں کے نشتر سوبے ہوئے ہیں آرزو یہ دل کی میں بھی مدینہ جانو سلطان دو جہاں کو قیداں کے دل دکھاؤں کٹوں گلسار چکر تے باقیر گلی کے توبی گزار دوں میں ایام زندگی کے تڑسور نے سب کوئی تیسان ہو جائے تڑسور نے سب کوئی تیسان ہو جائے چلاں کے پیغمبر مولا ہو جائے سہارا چاہے سرکار زندگی کے لیے تڑسور نے سب کوئی تیسان ہو جائے تڑپ رہا قمدی نے کی حاضری کے لیے میرا دل تڑپ رہا گاگے میرا جل رہا گاگے سینا کے دوا باگی ملے گی مجھے لے چلو مدینہ تمہیں معلوم سر تو کیا ہے میں گریبوں کا زینہ میری اس طلب مجھے کو لے چلو مدینہ ریاد میں مدینہ سہارا چاہے سرکار زندگی کے لیے تڑپ رہا قمدی نے کی حاضری کے لیے