
Genre: nasheed, naat, hamdYear: 2020Type: nasheed
Story & Cultural Context
'Baksh De Tu' is an Islamic Hamd/Kalam recited by Muhammad Bilal Qadri and released by Heera Gold for Ramadan 2020. The track is a heartfelt prayer seeking forgiveness and mercy from Allah.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
ProducerHeera Gold
LabelHeera Gold
Featured Artists
Muhammad Bilal Qadri
Story & Cultural Context
'Baksh De Tu' is an Islamic Hamd/Kalam recited by Muhammad Bilal Qadri and released by Heera Gold for Ramadan 2020. The track is a heartfelt prayer seeking forgiveness and mercy from Allah.
Titles in Other Languages
EnglishBaksh De Tu
Lyrics
اللہ اللہ سہ نہیں سکتے نہ دینا تو سزائیں یا خدا بخش دے نہ تو ہماری سب خطائیں یا خدا بخش دے نہ تو ہماری سب خطائیں یا خدا تو ہے واقف حال دل ہم کیا سنائیں یا خدا ہے غم تسلیم مولا ہم بڑے بدکار ہیں سہ نہیں سکتے نہ دینا تو سزائیں یا خدا سہ نہیں سکتے نہ دینا تو سزائیں یا خدا بخش دے نہ تو ہماری سب خطائیں یا خدا بخش دے نہ تو ہماری سب خطائیں یا خدا تو ہے واقف حال دل ہم کیا سنائیں یا خدا ہر طرف پھیلی وبائے کفر کی بودور کر نور سے کردے مؤثر یہ فضائیں یا خدا نور سے کردے مؤثر یہ فضائیں یا خدا بخش دے نہ تو ہماری سب خطائیں یا خدا بخش دے نہ تو ہماری سب خطائیں یا خدا تو ہے واقف حال دل ہم کیا سنائیں یا خدا واسطہ تجھ کو جناب عابد بیمار کا واسطہ تجھ کو جناب عابد بیمار کا آج ہر بیمار کو دے دے شفائیں یا خدا آج ہر بیمار کو دے دے شفائیں یا خدا بخش دے نہ تو ہماری سب خطائیں یا خدا بخش دے نہ تو ہماری سب خطائیں یا خدا تو ہے واقف حال دل ہم کیا سنائیں یا خدا راضی ہو جا واسطہ تجھ کو نبی کی آل کا راضی ہو جا واسطہ تجھ کو نبی کی آل کا امت محبوب پہ کر دے عطائیں یا خدا امت محبوب پہ کر دے عطائیں یا خدا بخش دے نہ تو ہماری سب خطائیں یا خدا بخش دے نہ تو ہماری سب خطائیں یا خدا تو ہے واقف حال دل ہم کیا سنائیں یا خدا ناتخواں ہیں یہ بلال اور یہ جنید قاسمی ناتخواں ہیں یہ بلال اور یہ جنید قاسمی حشر میں بھی مصطفیٰ کے گیت گائیں یا خدا حشر میں بھی مصطفیٰ کے گیت گائیں یا خدا بخش دے نہ تو ہماری سب خطائیں یا خدا بخش دے نہ تو ہماری سب خطائیں یا خدا تو ہے واقف حال دل ہم کیا سنائیں یا خدا تو ہے واقف حال دل ہم کیا سنائیں یا خدا تو ہے واقف حال دل ہم کیا سنائیں یا خدا