Skip to main content
Mustafa Ka Khuda Aur Khud Mustafa cover art

Mustafa Ka Khuda Aur Khud Mustafa

by Muhammad Hassan Raza Qadri

Album: Nasheeds

Duration: 9:12

Genre: nasheed, naat, madihYear: 2020Type: nasheed

Story & Cultural Context

'Mustafa Ka Khuda Aur Khud Mustafa' is a famous Urdu Naat expressing deep devotion, praise, and reverence for the Prophet Muhammad and the Creator. Recited by Muhammad Hassan Raza Qadri, this track is popular in Islamic gatherings and spiritual recitations across South Asia.

← Browse
Mustafa Ka Khuda Aur Khud Mustafa

Mustafa Ka Khuda Aur Khud Mustafa

Nasheeds 9:12 2020
AI-Enriched80%
Instruments
vocal-onlypercussion

Credits

LyricistTraditional Naat Poet

Story & Cultural Context

'Mustafa Ka Khuda Aur Khud Mustafa' is a famous Urdu Naat expressing deep devotion, praise, and reverence for the Prophet Muhammad and the Creator. Recited by Muhammad Hassan Raza Qadri, this track is…

Titles in Other Languages

العربيةمصطفى كا خدا اور خود مصطفى
EnglishThe God of Mustafa and Mustafa Himself

Lyrics

یا رسول اللہ یا رسول اللہ مصطفیٰ کا خدا اور خود مصطفیٰ کیوں کہوں میرا کوئی سہارا نہیں میرے دل میں سے لے کے بخدود ہوں شیخ عشق میرے دل کو گوارا نہیں مصطفیٰ کا خدا اور خود مصطفیٰ کیوں کہوں میرا کوئی سہارا نہیں مصطفیٰ کا خدا اور خود مصطفیٰ آپ کا عشق ہے عشق رب العلا آپ کا ذکر ہے خاص ذکر خلا خود کو دانے کڑ آمل آکیا جو تمہارا نہیں وہ ہمارا نہیں مصطفیٰ کا خدا اور خود مصطفیٰ کیوں کہوں میرا کوئی سہارا نہیں مصطفیٰ کا خدا اور خود مصطفیٰ اس میں رحمت ہے تارے مکہ من کے روح اس کی عظمت کو قرآن سے دیکھ لوں میرا کب ان کا اس میں مبارک دن ان کے معبود نے بھی پکارا نہیں مصطفیٰ کا خدا اور خود مصطفیٰ کیوں کہوں میرا کوئی سہارا نہیں مصطفیٰ کا خدا اور خود مصطفیٰ تو کروں کسی واہ اور پاؤں گا کیا جس کی منزل کا کوئی نہ ہو رنما اپنی منزل پہ ہر کس نہ پہنچے گا وہ ہاتھ میں جس کے دامن تمہارا نہیں مصطفیٰ کا خدا اور خود مصطفیٰ کیوں کہوں میرا کوئی سہارا نہیں مصطفیٰ کا خدا اور خود مصطفیٰ عقل جنوں بشک آیا ہار سکر کیا صدرا والے جہاں دنگ و حیران رہے پوچھتے کیا ہو شفک کیوں گئے مصطفیٰ کیوں کہوں کہ پر جوان ظلے کوئی بتائے کیا کیوں بنا عقل جنوں بشک آیا ہار سکر کیا صدرا والے جہاں دنگ و حیران رہے افراد مصطفیٰ کی ملے حق سے شیوع دریا غیر سے کاریناں نہیں مصطفیٰ کا خدا اور خود مصطفیٰ کیوں کہوں میرا کوئی سہارا نہیں مصطفیٰ کا خدا اور خود مصطفیٰ گوگی روزے پہ بلوائیں گے ایک دن اے سکندر سارا سب سے کام لیں بلالو پھر مجھے شاق بھر بھر مدینے میں میرا اطلعہ ہوں تیرے در پہ مدینے میں گوگی روزے پہ بلوائیں گے ایک دن اے سکندر سارا سب سے کام لیں ان کے در کا غدہ اور ما یوں سروں میرے سرکار کو یہ گوارا نہیں مصطفیٰ کا خدا اور خود مصطفیٰ کیوں کہوں میرا کوئی سہارا نہیں مصطفیٰ کا خدا اور خود مصطفیٰ تفتے مصطفیٰ کی ملے حق سے شیوع دریا غیر سے کاریناں نہیں مصطفیٰ کا خدا اور خود مصطفیٰ کیوں کہوں میرا کوئی سہارا نہیں مصطفیٰ کا خدا اور خود مصطفیٰ