Skip to main content
Meraj e Payambar cover art

Meraj e Payambar

by Rao Brothers

Album: Nasheeds

Duration: 6:44

Genre: nasheed, naatType: nasheed

Story & Cultural Context

Meraj e Payambar is a nasheed that likely recounts the Isra and Mi'raj, the night journey and ascension of the Prophet Muhammad, emphasizing spiritual themes in Islamic tradition. It is performed by Rao Brothers, known for their ethical audio productions in Arabic and Urdu languages.

← Browse
Meraj e Payambar

Meraj e Payambar

AI-Enriched70%
Instruments
vocal-only

Credits

LabelWithout label

Story & Cultural Context

Meraj e Payambar is a nasheed that likely recounts the Isra and Mi'raj, the night journey and ascension of the Prophet Muhammad, emphasizing spiritual themes in Islamic tradition. It is performed by…

Titles in Other Languages

EnglishAscension of the Prophet

Lyrics

میراج والے مصطفیٰ میراج والے مصطفیٰ تو حقیقت ہے میں صرف احساس ہوں سمندر میں بھٹکی ہوئی پیاس ہوں میرا گھر خاک پر اور تیری راہ گزر صدرت المنتہا میراج میراج میراج پیامبر میراج میراج میراج پیامبر میراج میراج میراج پیامبر شب ہے سہانی مہکی ہوئی آج فضائے محبوب اپنے مولا سے ملنے کو چلا ہے محبوب اپنے مولا سے ملنے کو چلا ہے عرش کو بھی ناز زمیں وجد میں آئی دیکھا نہ کبھی آنکھ نے تھا کوئی منظر کتنی ہسی ہے وہ منو میراج پیامبر میراج میراج میراج پیامبر فرمایا حق تعالی نے جبرائیل امی سے لے جاؤ میرے حبیب کو آروے زمیں سے لے جاؤ میرے حبیب کو آروے زمیں سے جا کر کیا سلام دیا قلب کو بوسا یہ عز رب نے عطا کیا ہے تمہیں سرور کتنی ہسی ہے وہ منو میراج پیامبر میراج والے مصطفیٰ میراج والے مصطفیٰ نبیوں نے ان رسولوں نے کی پیش سلامی ہوروں ملک بھی کرنے لگے ان کی غلامی ہوروں ملک بھی کرنے لگے ان کی غلامی جب صدرہ پر وہ پہنچے تو جبرائیل یہ بولے جل جائیں گے جو آنکھ دائے تو یہ میرے پر کتنی ہسی ہے وہ منو میراج پیامبر میراج والے مصطفیٰ میراج والے مصطفیٰ حق کا حکم ہے ہانی کے گھر سے وہ چلے جا کر وہاں امام رسولوں کے بنے ہیں پہنچے جو آسمان پہ محبوب خدا کے بڑھ کر کیے پھول پریشتوں نے نچھا ہے کتنی ہسی ہے وہ منو میراج پیامبر میراج والے مصطفیٰ میراج والے مصطفیٰ صدرہ سے آگے قرب خدا میں جو وہ پہنچے دونوں کے بیچ جو بھی تھے سب اٹھ گئے پردے محبوک اور محبوب میں ہوئی راز کی باتیں پاک خدا سے لاہے نمازوں کا بجا کر کتنی ہسی ہے وہ منو میراج پیامبر میراج والے مصطفیٰ میراج والے مصطفیٰ میراج کو گئے ہیں یوں کونین کے والی بستر بھی گرم پایا رہی کنڈی بھی ہلکی میراج ہوئی شاہ کو ماں کی ایک نگہ سے منکر ہے اس کا جو وہ ہے شیطان کا نوکر کتنی ہسی ہے وہ منو میراج پیامبر میراج والے مصطفیٰ میراج والے مصطفیٰ اللہ ہو کے سبت بھگے میراج نبی کا قرآن میں بھی چرچہ ہے میراج نبی کا عاصم مداز راج نے میراج کے منکر وہ چہرے دیکھ لو چہرے ہیں منور کتنی ہسی ہے وہ منو میراج پیامبر میراج والے مصطفیٰ میراج والے مصطفیٰ میراج پیامبر