Skip to main content
Ya Muhammad Nigahe Karam Kijiye cover art

Ya Muhammad Nigahe Karam Kijiye

by Heera Gold

Album: Nasheeds

Duration: 8:08

Genre: nasheed, naatYear: 2018Type: nasheed

Story & Cultural Context

'Ya Muhammad Nigahe Karam Kijiye' is a famous Urdu Naat Sharif performed by renowned Pakistani reciter Zohaib Ashrafi, expressing deep love, reverence, and a plea for blessings from the Islamic prophet Muhammad.

← Browse
Ya Muhammad Nigahe Karam Kijiye

Ya Muhammad Nigahe Karam Kijiye

Nasheeds 8:08 2018
AI-Enriched85%
Instruments
vocal-onlypercussion

Credits

ProducerHeera Gold
LabelHeera Gold

Story & Cultural Context

'Ya Muhammad Nigahe Karam Kijiye' is a famous Urdu Naat Sharif performed by renowned Pakistani reciter Zohaib Ashrafi, expressing deep love, reverence, and a plea for blessings from the Islamic…

Titles in Other Languages

العربيةیا محمد نگاهِ کرم کیجیے
EnglishYa Muhammad Nigahe Karam Kijiye

Lyrics

یا محمد نگاہِ کرم کی جئیے ہم غریبوں کے دن بھی سور جائیں گے آپ ہی کا سہارا ہے یا مصطفیٰ گر سہارا نہ دوگے تو مر جائیں گے حق نے تخلیق فرمائے کونوں مقام آپ ہی کے لیے سرورے دو جہاں آپ کا واسطہ دے کے مانگیں گے جو ان کے دامن مرادوں سے بھر جائیں گے یا محمد نگاہِ کرم کی جئیے ہم غریبوں کے دن بھی سور جائیں گے آپ ہی کا سہارا ہے یا مصطفیٰ گر سہارا نہ دوگے تو مر جائیں گے پل صراط ان کے نزدیک ہے سخت تر آپ سے جن کو اسبت نہیں ہے مگر یہ غلام آپ کے یا حبیبِ خدا آپ کا ذکر کر دے گزرجائیں گے یا محمد نگاہِ کرم کی جئیے ہم غریبوں کے دن بھی سور جائیں گے آپ ہی کا سہارا ہے یا مصطفیٰ گر سہارا نہ دوگے تو مر جائیں گے آنکھ کعبہ بنے گی میری دیکھنا دل مدینہ بنے گا میرا دیکھنا آنکھ کی راہ سے سرورِ انبیاء آنکھ کی راہ سے سرورِ انبیاء جسے کہیں میرے دل میں اتر جائیں گے یا محمد نگاہِ کرم کی جئیے ہم غریبوں کے دن بھی سور جائیں گے آپ ہی کا سہارا ہے یا مصطفیٰ گر سہارا نہ دوگے تو مر جائیں گے ہاتھ پھیلائے دامن پسارے ہوئے بوجھ فرصرت کر سر سے اتارے ہوئے اپنا بگڑا مقدر سوارے ہوئے ایک نہ ایک روز ہم ان کے گھر جائیں گے یا محمد نگاہِ کرم کی جئیے ہم غریبوں کے دن بھی سور جائیں گے آپ ہی کا سہارا ہے یا مصطفیٰ گر سہارا نہ دوگے تو مر جائیں گے آؤ شبیر شہرِ مدینہ چلیں درد و غم کے فسانے انہیں سے کہیں اور کہیں ایک نگاہِ کرم یا نبی ورنہ فرقت کے مارے کدھر جائیں گے یا محمد نگاہِ کرم کی جئیے ہم غریبوں کے دن بھی سور جائیں گے آپ ہی کا سہارا ہے یا مصطفیٰ گر سہارا نہ دوگے تو مر جائیں گے گر تم نہ سنوگے تو میری کون سنے گا گر تم نہ کروگے تو کرم کون کرے گا ٹالے سے بکاری نہ ٹلا ہے نہ ٹلے گا جھولی کو میری تیرے سوا کون بھرے گا