
Genre: nasheed, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
This nasheed features verses based on classical Urdu poetry by Allama Iqbal, focusing on spiritual insight, self-reflection, and inner vision ('Dil o Nigah'). Performed by Syed Hassan Ullah Hussaini, it emphasizes devotion and awakening of the heart.
← Browse

AI-Enriched75%
Credits
LyricistAllama Iqbal
Story & Cultural Context
This nasheed features verses based on classical Urdu poetry by Allama Iqbal, focusing on spiritual insight, self-reflection, and inner vision ('Dil o Nigah'). Performed by Syed Hassan Ullah Hussaini,…
Titles in Other Languages
EnglishWorld of Heart and Sight
Lyrics
دلوں کی گاہ ہاتھی تو دیا نہ ہی نہیں ہوئی ہے دلوں کی گاہ ہاتھی تو دیا نہ ہی نہیں ہوئی ہے میں بس یہی تو نہیں آج آیا ہوں محفل میں کہیں سے عزت میں ملا گئے تو حاضری ہوئی ہے دلوں کی گاہ ہاتھی تو دیا نہ ہی نہیں ہوئی ہے دلوں کی گاہ ہاتھی تو دیا نہ ہی نہیں ہوئی ہے یہ سر اٹھائے جو میں جا رہا ہوں جانی بے خود میرے لیے میرے آقا نے بات کی ہوئی ہے دلوں کی گاہ ہاتھی تو دیا نہ ہی نہیں ہوئی ہے دلوں کی گاہ ہاتھی تو دیا نہ ہی نہیں ہوئی ہے ہزار شکر غلامان شاہ بطغامیں شروع دن سے مریضہ زہری لگی ہوئی ہے دلوں کی گاہ ہاتھی تو دیا نہ ہی نہیں ہوئی ہے دلوں کی گاہ ہاتھی تو دیا نہ ہی نہیں ہوئی ہے مجھے یقین وہ آئیں گے جب میں آسو میرے سر کو گار سے یارت ابھی ابھی ہوئی ہے دلوں کی گاہ ہاتھی تو دیا نہ ہی نہیں ہوئی ہے دلوں کی گاہ ہاتھی تو دیا نہ ہی نہیں ہوئی ہے جہاں نے کن سے ادھر کیا تھا کون جانتا ہے وہی ہوں جسے یہ زندگی ہوئی ہے دلوں کی گاہ ہاتھی تو دیا نہ ہی نہیں ہوئی ہے دلوں کی گاہ ہاتھی تو دیا نہ ہی نہیں ہوئی ہے دلوں کے پر تیگی ہے کہس روشنی ہوئی ہے دلوں کی گاہ ہاتھی تو دیا نہ ہی نہیں ہوئی ہے دلوں کی گاہ ہاتھی تو دیا نہ ہی نہیں ہوئی ہے