
Genre: nasheed, naatYear: 2021Type: nasheed
Story & Cultural Context
'Sahara Chahiye' is an Urdu Naat recited by Muhammad Wahaj Naqshbandi and released under the Heera Gold label. The poem expresses deep spiritual reliance and love for Prophet Muhammad, seeking his support and intercession.
← Browse

AI-Enriched80%
Credits
ProducerHeera Gold
LabelHeera Gold
Story & Cultural Context
'Sahara Chahiye' is an Urdu Naat recited by Muhammad Wahaj Naqshbandi and released under the Heera Gold label. The poem expresses deep spiritual reliance and love for Prophet Muhammad, seeking his…
Titles in Other Languages
EnglishSahara Chahiye
Lyrics
تیری آقا ماں دی نے بنایا کیا سبحانچہ یہ زندگی کے لیے ٹڑا پڑا ہوں میں تیرے در کی آستین کے لیے سبر جا یہ زندگی کے لیے یہ سبر جا یہ زندگی کے لیے تیری آقا ماں دی نے بنایا کیا چشمہ رحمت سے جو اپنا بھیکا ہے خون جائیے ایسا جو پوچھنے کو آئے خون جائیے ایسا جو پوچھنے کو آئے دولا ہوا کوشہ بھی مندر کو ٹوڑتا ہے داری کی عوبے مائے قلب کو ڈوڑتا ہے چھیڑے میرے دل کا میرا دیا افسانہ یہ میری کہانی سرکار کو سنانا چینہ تیرے در کی جوگن بنوں بتیوں چینہ تیرے در کی جوگن بنوں بتیوں پھوک کے رمہوں مجھے الف کر لو فریاد کر رہا ہوں میں دل فقار کوزے میرا بھی قصہ ہے غم کے نقشہ ہے عدم سے سبر جا یہ زندگی کے لیے ٹڑا پڑا ہوں میں تیرے در کی آستین کے لیے مجدہ رب کا ہے مجدہ عالم سنا اتواں مانگے میں بھی پھر لے چلوں مدینہ لے مال و ذرت کیا ہے میں غریب ہوں یا اینا میرے عشق مجھے کو لے چل کوئی جانی بے مدینہ آقا نہ ٹوڑ جائے یہ دل کا فقینا اب کے برس بھی مولا رہ جاؤں میں کہیں نہ اب کے برس بھی مولا رہ جاؤں میں کہیں نہ دل رو رہا ہے جن کا آسوجہ لگتا ہے انہیں عاشقوں کا صدقہ یارے مدینہ تیری آقا ماں دی نے فرمایا ہے کیا مادی نے جاؤں کراہو دوبارہ پہ جاؤں یہ زندگی میری یوں ہی تمام ہو جائے سبر جا یہ زندگی کے لیے ٹڑا پڑا ہوں میں تیرے در کی آستین کے لیے اے آدم مدینہ جا کر نبی سے کہنا سو سے وہ میرا غصے اب جگ رہا ہے سینہ کہنا کہ برس بھی مولا اب دل کی کترا بھی کرمو سے دور ہوں میں قسمت کی ہے خرابی کہنا کہ دن میں میرے ارماں بھرے ہوئے ہیں کہنا کہ حسنتوں کے نشتر چوبے ہوئے ہیں یہ عارض یہی دل کی میں بھی مدینہ جاؤں چشمہ رضا جہاں کو آنکھیں دن کر دکھاؤں کارتوں گا سارا چکر سبا کی الفغانی کے یوں ہی گزار دوں میں ایام زندگی کے پھولوں پہ جا نصار کاٹوں پہ دل کو واروں سرکھوں صورتوں سالہ بھی سر کی کروں گفاری بیمانوں در کو چھو جو مت پہ زر کو رکھ دوں دل کو دیکھ کر میں ہوں گا بے برابر عالم کے دل میں ہے یہ عارضہ نہیں کب سے عالم کے دل میں ہے یہ عارضہ نہیں کب سے میرا بھی قصہ ہے غب کے نقشہ ہے عارض سے سبحانچہ یہ زندگی کے لیے ڈڑا پڑا ہوں میں تیرے در کی آستین کے لیے ککرو اسے ہوگا جانا سارے سارے کی نبی کے فوقہ لوڑی کتاہوں میں سارے سارے کی نبی کے فوقہ لوڑی کتاہوں میں ساتے یہاں صافہ خدا کا لوٹنے کا عارضہ نہیں کرلوں نظر آ کر میں آپ کی گلی کا اتبار توحیقہ دو رنگا در میں بادینہ آقا مجھے جگہ دو رنگا در میں بادینہ میں شک بنا دو اپنا میں مر جاؤں گلی کا یہ فیض بھبا جو میں میرا جینا نہ ہو جائے جو زندگی کی مدینہ میں شام ہو جائے سبحانچہ یہ زندگی کے لیے ڈڑا پڑا ہوں میں تیرے در کی آستین کے لیے تیری آقا ماں دی نے بنایا کیا مادی نے جاؤں کرا ہوں دوبارہ پہ جاؤں یہ زندگی میری یوں ہی تمام ہو جائے سبحانچہ یہ زندگی کے لیے ڈڑا پڑا ہوں میں تیرے در کی آستین کے لیے تیری آقا ماں دی نے بنایا کیا