Skip to main content
Ye Arz Khudara Hai cover art

Ye Arz Khudara Hai

by Muhammad Furqan Mayari & Muhammad Hassan Mayari

Album: Nasheeds

Duration: 7:56

Genre: nasheed, naat, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

'Ye Arz Khudara Hai' is a devotional Urdu nasheed performed by brothers Muhammad Furqan Mayari and Muhammad Hassan Mayari, expressing deep humility, prayer, and spiritual longing.

← Browse
AI-Enriched70%
Instruments
vocal-only

Credits

LabelWithout label

Story & Cultural Context

'Ye Arz Khudara Hai' is a devotional Urdu nasheed performed by brothers Muhammad Furqan Mayari and Muhammad Hassan Mayari, expressing deep humility, prayer, and spiritual longing.

Titles in Other Languages

EnglishThis Request, For God's Sake

Lyrics

مجھے مدینے کی دو اجازت نبی رحمت شفیع امت شفیع امت بلاو بلاو کہہ نام علفت نبی رحمت شفیع امت شفیع امت بلاو مجھے آقا یہ عرض گزارا ہے بے سر ہوں میں بے پروں اور دور تبارہ ہے ماں پاس نہیں سر بھی اڑنے کو نہیں پر بھی جب بھی تو تیرے در پر دامل کو بسارا ہے بلاو مجھے آقا یہ عرض گزارا ہے بے سر ہوں میں بے پروں اور دور تبارہ ہے اسی آنکھ سے میں بھی کرش کی رہ پریشان ہوں اب کیجے مدد آقا یہ سلسلہ دراز ہے بلاو بلاو کربا بلاو بلاو بے سر ہوں میں بے پروں اور دور تبارہ ہے کیا خوب فضائے ہیں کیا مہک کی ہوایں ہیں مجھ کو بھی دکھا دیجئے کیا درب تو تمہارا ہے بلاو مجھے آقا یہ عرض گزارا ہے بے سر ہوں میں بے پروں اور دور تبارہ ہے اس آنکھ کو کیا بھائے دنیا کے نظارے پے اس آنکھ نے بھی دیکھا تیبا کا نظارہ ہے بلاو مجھے آقا یہ عرض گزارا ہے بے سر ہوں میں بے پروں اور دور تبارہ ہے بے مایہ سنا گر ہوں ادنا سا گدھا گر ہوں ہے تیرا کرم آقا تم نے یہ نکھارا ہے بلاو بلاو کربا بلاو بلاو بے سر ہوں میں بے پروں اور دور تبارہ ہے کیا خوب فضائے ہیں کیا مہک کی ہوایں ہیں مجھ کو بھی دکھا دیجئے کیا درب تو تمہارا ہے مجھ کو بھی دکھا دیجئے کیا درب تو تمہارا ہے بلاو مجھے آقا یہ عرض گزارا ہے بے سر ہوں میں بے پروں اور دور تبارہ ہے دنیا کے غموں کی اب للہ رتھا دیجئے اپنوں نے بھی چھوڑا ہے غیروں نے بھی مارا ہے بلاو مجھے آقا یہ عرض گزارا ہے بے سر ہوں میں بے پروں اور دور تبارہ ہے مگر دور کو اب آقا روزے پہ بلا لیجے مگر دور کو اب آقا روزے پہ بلا لیجے مگر دور کو اب آقا روزے پہ بلا لیجے بدکار سہی لیکن بندہ تو تمہارا ہے بلاو مجھے آقا یہ عرض گزارا ہے بے سر ہوں میں بے پروں اور دور تبارہ ہے تيبا تيبا تيبا تيبا