Skip to main content
Taiba Ke Jaane Wale cover art

Taiba Ke Jaane Wale

by Heera Gold

Album: Nasheeds

Duration: 7:02

Genre: nasheed, naatYear: 2021Type: nasheed

Story & Cultural Context

'Taiba Ke Jaane Wale' is a traditional Islamic Naat expressing deep longing and devotion for Madinah (Taiba) and Prophet Muhammad. Released by Heera Gold, a prominent Islamic audio label in South Asia, it features heartfelt vocal performances dedicated to holy sentiments.

← Browse
Taiba Ke Jaane Wale

Taiba Ke Jaane Wale

Nasheeds 7:02 2021
AI-Enriched85%
Instruments
vocal-only

Credits

LabelHeera Gold

Story & Cultural Context

'Taiba Ke Jaane Wale' is a traditional Islamic Naat expressing deep longing and devotion for Madinah (Taiba) and Prophet Muhammad. Released by Heera Gold, a prominent Islamic audio label in South…

Titles in Other Languages

العربيةطيبة کے جانے والے
EnglishO Visitors of Medina
TürkçeTaybe'ye Gidenler

Lyrics

طیبہ کے جانے والے جا کر بڑے عدب سے میرا بھی قصہ غم کہنا شرع عرب سے طیبہ کے جانے والے کہنا کے شاہ عالی اکرم جو غم کا مارا دونوں جہاں میں صرف کا ہے آپ کی سہارا حالات پر علم سے گردم گزر رہا گئے اور کافتے لبوں سے فریاد کر رہا گئے بارے گناہ اپنا گئے دوش پر اٹھائے کوئی نہیں ویسا جو پوچھنے کو آئے بھٹکا ہوا مسافر منزل کو ڈھونڈتا گئے تاریخیوں میں ماہے کامل کو ڈھونڈتا گئے سینے میں ہے اندھیرہ دل میں سیاہ فہاں کا یہ سب میری حقیقت سرکار کو سنانا کہنا میرے نبی سے محروم ہوں خوشی سے سر پر ہے قبر غم ہے عشقوں سے آنکھ نم ہے پاپا لے زندگی ہوں سرکار امت کی ہوں امت کے رہنما کچھ عرض حال سنو لو فریاد کر رہا گو میں دل فگار کم سے میرا بھی قصہ ہے غم کہنا شرع عرب سے طیبہ کے جانے والے جا کر بڑے عدب سے میرا بھی قصہ ہے غم کہنا شرع عرب سے طیبہ کے جانے والے کہنا کے کارواں ہوں میں تھوکریں جگہاں میں تم بھی بتا آقا جاؤں بھلا کہاں میں میں نے سوچ کر رہا گو دنیا فیک دوکا مطلب کے یار ہیں سب کوئی نہیں کسی کا کس کو میں اپنا جانوں کس کا میں ہوں سہارا مجھ کو تو میرے آقاں ہے آپ کا سہارا تم بھی سنو گے میری تم بھی کرم کرو گے دونوں جہام تم بھی میرا بھرم رکھو گے تم داغ کھائے عالم میں ایک نہ سی بے برکم تم بے قزوں کے والی میں بے نباس و والی تم آسیوں کا یارم میں قردشوں کا مارا رحمت وہ تم سرابہ میں مرتقی فدا کا موشر موشر اپنے آمال کے سبب سے میرا بھی قصہ ہے غم کہنا شرع عرب سے طیبہ کے جانے والے جا کر بڑے عدب سے میرا بھی قصہ ہے غم کہنا شرع عرب سے طیبہ کے جانے والے اے آقی میں مدینہ جا کر نبی سے کہنا سوزے غمِ عدم سے اب جل رہا گیا سینا کہنا کے دل میں لاکھوں ارما بھرے ہوئے گئے کہنا کے غم سے روتے نستر جوبے ہوئے گئے اے آقی روئے دل کی میں بھی مدینہ جاؤں سلطان دو جہام کو سب داغ دل دکھاؤں کٹوں مزار چکر طیبہ کی ہر گلی کے یوں ہی گزار دوں میں ایام زندگی کے پھولوں پہ جان نساروں کٹوں پہ دل کو باروں جھلوں کو بیسالاں میں در کی کروں غلامی دیوار و در کو چوموں کدموں پہ سر کو رکھ دوں مغدوم سے لپت کر روتا نہ ہوں برابر عالم کے دل میں رہے یہ حسرت نہ جانے کب سے میرا بھی قصہ غم کہنا شرع عرب سے طیبہ کے جانے والے جا کر بڑے عدب سے میرا بھی قصہ غم کہنا شرع عرب سے طیبہ کے جانے والے بھٹکا ہوا مسافر منزل کو ڈھونڈتا گئے تاریخیوں میں ماہے کامل کو ڈھونڈتا گئے سینے میں ہے اندھیرہ دل میں سیہ وفا کا یہ سب میری حقیقت سرکار کو سنانا کہنا میرے نبی سے محروم کو خوشی سے سر پر ہے قبر غم ہے عشقوں سے آنکھ نم ہے پاپا لے زندگی ہوں سرکار امت کی ہوں امت کے رہنما کچھ عرض حال سنو لو فریاد کر رہا گو میں دل فگار کم سے میرا بھی قصہ غم کہنا شرع عرب سے طیبہ کے جانے والے جا کر بڑے عدب سے میرا بھی قصہ غم کہنا شرع عرب سے طیبہ کے جانے والے اے آقی میں مدینہ جا کر نبی سے کہنا سوزے غم عدم سے اب جل رہا گئے سینا کہنا کے دل میں لاکھوں ارما بھرے ہوئے گئے کہنا کے غم سے روتے نستر چوبے ہوئے گئے اے آقی روئے دل کی میں بھی مدینہ جاؤں سلطان دو جہام کو سب داغ دل دکھاؤں کانٹوں مزار چکر طیبہ کی ہر گلی کے یوں ہی گزار دوں میں ایام زندگی کے پھولوں پہ جان نساروں کانٹوں پہ دل کو باروں جھروں کو بیسالاں میں درکی کروں غلامی دیوار و در کو چوموں قدموں پہ سر کو رکھ دوں مغدوم سے لپٹ کر روتا نہ ہوں برابر عالم کے دل میں رہے یہ حسرت نہ جانے کب سے میرا بھی قصہ غم کہنا شرع عرب سے طیبہ کے جانے والے جا کر بڑے عدب سے میرا بھی قصہ غم کہنا شرع عرب سے طیبہ کے جانے والے