Skip to main content
Ramzan As Salam cover art

Ramzan As Salam

by Rao Brothers

Album: Jugni

Duration: 6:29

Genre: nasheedType: nasheed

Story & Cultural Context

Ramzan As Salam by Rao Brothers is a nasheed that appears to celebrate Ramadan themes, promoting peace and greetings in an Islamic context. It is part of the album Jugni and is sung in Urdu, likely aiming to inspire spiritual reflection during holy periods.

← Browse
Ramzan As Salam

Ramzan As Salam

Jugni 6:29
AI-Enriched60%
Genre
Instruments
vocal-only

Credits

LabelWithout label

Story & Cultural Context

Ramzan As Salam by Rao Brothers is a nasheed that appears to celebrate Ramadan themes, promoting peace and greetings in an Islamic context. It is part of the album Jugni and is sung in Urdu, likely…

Titles in Other Languages

EnglishRamadan Peace

Lyrics

اے ماہ غیرمزام
ماہ غیرمزام

رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ
رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ

چھکڈی ملتا لڑکا تو بھی غصاد سکا
دیکھی رکھتا کو حیرت ماں نے تھا بڑا
رمزہ تھا مہینہ جو آیا تو کچھ ہوا
اپنی ماں سے کہنے لگا تت کے لڑکا
تیری کے بات مجھے کبھی نہ تھا کا شک
بے بیرکوں کا روزہ بھی جانتا ہوں میں
ماں کو کسرت کی بات کا یاد تھا خیال
لڑکا اٹھا زبان تو اسے کو ہوا غمزا
اس وقت ماں نے دیکھ گئی بیٹے کا غم کے حال
سمجھایا اس کو اور کہا سننے میں یہ دلال
رمزہ نہیں ہے فرض ابھی تجھ پہ غم نہ کر
دل کا بتا ہے میں نہ کروں گا ہوں نم نہ کر
لڑکا یہ بولا ماں کے نہیں مجھ سے کچھ گیا
میں نے سنا ہے بارہاں رمزہ نکا بیان
قرآن اس مہینے میں نازن ہوا ہے ماں
رمزہ میں بھر کرم کا مہینہ ہے دنما
جنت میں گھر ملے گا اگر تو رکھے گا
آئے گا دل میں جذبہ پر ور بگا
وہ کل قصہ جب کے راتے رمیمہ کا سوچا
دل میں تا یہ سن کے کون جاگتا رہا
تیری کے وقت سے لے کے وہ روزہ رکھ لیا
مجھ تک کہ آج تم رہا ہوا دل کا مہتا
سمجھایا ماں نے بات پھر لاج رکھ لی جال
آج اپنا شوق سے مگر آیا نہ کچھ بھجاں
رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ
رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ
رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ
رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ
سمت جب کے فیلے گیا نورے آم دا
ماں نے پکے یہ بولی کے اب کھالے کچھ کتا
وہ بولا روزہ ٹوٹے گا ہوگا مجھے آزاد
ماں کو دی دیکھتے بھڑلے وہاں سے دیئے جواب
کھانا تو کھالے دیکھے دکیا ہو گیا اراد
بارہ بجے کے اور تو دن کا ہے بے قرار
کس طرح جاؤ سکے سینے میں روزہ کا شوق تھا
مانے ہزار منتے کی کچھ نہ ہو سکا
بیتابے اپنی ماں کو جو دیکھا تو بولا
جو کچھ بھی ہو میں آج جو کھانا نہ کھاؤں گا
کیوں روزہ توڑ لینے کو جائی ہے تجھ میں
اب میں ہواں تمہیں سبوتار نہیں رہی میں
کتنے کے وقت یا سرت ہوا پیاسے جو لگی کے
سنتی زبان کالے مانس پہ بے ہوش ہوئی
حرکت میں دل کے آئے کمیبے کا دلش پڑی
کسی کی سی آئی ساتھ سے دی سینے میں دور گئی
ماں باپ دیکھتے اٹھے کے مر جو پجھے بجا
بھوکا بھکا کو بند گیا ماں سے وہ جانے بسا
رمزہ کو روانے کی ہوئی کتنے پہ ایک پکا
افتار تو ہم نے کیا روزہ پہارے رات
پھر بارے گائے حق میں جھکے ہو کے بے قرار
پار ہوئے نماز پڑے دونوں ہر سبار
ماں کی زبان بیٹے پہ جاری ہے دکی
اور سامنے پلازے رکھی تھے پورے ہنگی
رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ
رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ
رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ
رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ
دونوں تھے اپنے بیٹے کے باطم پہ مگن
اتنے میں در پہ تھی پھرد سائم نے یہ سدا
میرہ روزہ دار ہوں کوئی کھانا کھلاے گا
پیٹ تھا اس نے یاد ہر ایک رند سے خدا
کانوں میں پہنچتے سگر سارے اتنے جاب
تر میں جو کچھ پکا تھا وہ سائم کو دے دیا
خود جاں رہی پیٹ سے ملتا پریزہ وہ بے گمہ
غمگی میں اس کو دیکھ کے پوچھا کے یہ نیا
پوچھے نہ سے نے تمہارے اس طرح وبا آیا
اتنے میں لگا بکیادک میں در پہ دربگاہ آیا
بیٹا ہمارا رکھ چکا ہے مکمل تے روزہ
آراضہ دار جلد سے پوچھینے لے گیا
بولا کو کھیرے شکر کرو مزہ نے رمیم
اللہ کا عذاب دے دے گا اس نے یہ کھلا
بچیک لاشے مجھے کو بھی تم ایک نظر دکھا
بچیک لاشے دیکھ کے بچے کی سائم نے یہ کہا
ہو جا خدا کے فضل سے دور اس قریب
فضل خدا سے بچے نے پھر یاد کو
انپنے ماں باپ کو دیکھ جب لے گئی منزل
تو مشرقوں میں بے ساتھ سداو کو چہرے کے قدموں میں گزر پڑے
بولا کو کھیرے شکر کرو فضل رب ہے یہ
رمضان کا مہینہ بڑا برکتوں کا ہے
فضل کی جاتے ملتے ہیں ہر روزہ دار کو
کو دیکھتا ہر دن پر بربتا ہے
رمضان رمضان رمضان
رمضان رمضان رمضان
رمضان رمضان رمضان رمضان