
Genre: nasheedType: nasheed
Story & Cultural Context
Ramzan As Salam by Rao Brothers is a nasheed that appears to celebrate Ramadan themes, promoting peace and greetings in an Islamic context. It is part of the album Jugni and is sung in Urdu, likely aiming to inspire spiritual reflection during holy periods.
← Browse

AI-Enriched60%
Genre
Instruments
vocal-only
Credits
LabelWithout label
Story & Cultural Context
Ramzan As Salam by Rao Brothers is a nasheed that appears to celebrate Ramadan themes, promoting peace and greetings in an Islamic context. It is part of the album Jugni and is sung in Urdu, likely…
Titles in Other Languages
EnglishRamadan Peace
Lyrics
اے ماہ غیرمزام ماہ غیرمزام رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ چھکڈی ملتا لڑکا تو بھی غصاد سکا دیکھی رکھتا کو حیرت ماں نے تھا بڑا رمزہ تھا مہینہ جو آیا تو کچھ ہوا اپنی ماں سے کہنے لگا تت کے لڑکا تیری کے بات مجھے کبھی نہ تھا کا شک بے بیرکوں کا روزہ بھی جانتا ہوں میں ماں کو کسرت کی بات کا یاد تھا خیال لڑکا اٹھا زبان تو اسے کو ہوا غمزا اس وقت ماں نے دیکھ گئی بیٹے کا غم کے حال سمجھایا اس کو اور کہا سننے میں یہ دلال رمزہ نہیں ہے فرض ابھی تجھ پہ غم نہ کر دل کا بتا ہے میں نہ کروں گا ہوں نم نہ کر لڑکا یہ بولا ماں کے نہیں مجھ سے کچھ گیا میں نے سنا ہے بارہاں رمزہ نکا بیان قرآن اس مہینے میں نازن ہوا ہے ماں رمزہ میں بھر کرم کا مہینہ ہے دنما جنت میں گھر ملے گا اگر تو رکھے گا آئے گا دل میں جذبہ پر ور بگا وہ کل قصہ جب کے راتے رمیمہ کا سوچا دل میں تا یہ سن کے کون جاگتا رہا تیری کے وقت سے لے کے وہ روزہ رکھ لیا مجھ تک کہ آج تم رہا ہوا دل کا مہتا سمجھایا ماں نے بات پھر لاج رکھ لی جال آج اپنا شوق سے مگر آیا نہ کچھ بھجاں رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ سمت جب کے فیلے گیا نورے آم دا ماں نے پکے یہ بولی کے اب کھالے کچھ کتا وہ بولا روزہ ٹوٹے گا ہوگا مجھے آزاد ماں کو دی دیکھتے بھڑلے وہاں سے دیئے جواب کھانا تو کھالے دیکھے دکیا ہو گیا اراد بارہ بجے کے اور تو دن کا ہے بے قرار کس طرح جاؤ سکے سینے میں روزہ کا شوق تھا مانے ہزار منتے کی کچھ نہ ہو سکا بیتابے اپنی ماں کو جو دیکھا تو بولا جو کچھ بھی ہو میں آج جو کھانا نہ کھاؤں گا کیوں روزہ توڑ لینے کو جائی ہے تجھ میں اب میں ہواں تمہیں سبوتار نہیں رہی میں کتنے کے وقت یا سرت ہوا پیاسے جو لگی کے سنتی زبان کالے مانس پہ بے ہوش ہوئی حرکت میں دل کے آئے کمیبے کا دلش پڑی کسی کی سی آئی ساتھ سے دی سینے میں دور گئی ماں باپ دیکھتے اٹھے کے مر جو پجھے بجا بھوکا بھکا کو بند گیا ماں سے وہ جانے بسا رمزہ کو روانے کی ہوئی کتنے پہ ایک پکا افتار تو ہم نے کیا روزہ پہارے رات پھر بارے گائے حق میں جھکے ہو کے بے قرار پار ہوئے نماز پڑے دونوں ہر سبار ماں کی زبان بیٹے پہ جاری ہے دکی اور سامنے پلازے رکھی تھے پورے ہنگی رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ رمزہ رمزہ رمزہ ہے مہینہ رمزہ دونوں تھے اپنے بیٹے کے باطم پہ مگن اتنے میں در پہ تھی پھرد سائم نے یہ سدا میرہ روزہ دار ہوں کوئی کھانا کھلاے گا پیٹ تھا اس نے یاد ہر ایک رند سے خدا کانوں میں پہنچتے سگر سارے اتنے جاب تر میں جو کچھ پکا تھا وہ سائم کو دے دیا خود جاں رہی پیٹ سے ملتا پریزہ وہ بے گمہ غمگی میں اس کو دیکھ کے پوچھا کے یہ نیا پوچھے نہ سے نے تمہارے اس طرح وبا آیا اتنے میں لگا بکیادک میں در پہ دربگاہ آیا بیٹا ہمارا رکھ چکا ہے مکمل تے روزہ آراضہ دار جلد سے پوچھینے لے گیا بولا کو کھیرے شکر کرو مزہ نے رمیم اللہ کا عذاب دے دے گا اس نے یہ کھلا بچیک لاشے مجھے کو بھی تم ایک نظر دکھا بچیک لاشے دیکھ کے بچے کی سائم نے یہ کہا ہو جا خدا کے فضل سے دور اس قریب فضل خدا سے بچے نے پھر یاد کو انپنے ماں باپ کو دیکھ جب لے گئی منزل تو مشرقوں میں بے ساتھ سداو کو چہرے کے قدموں میں گزر پڑے بولا کو کھیرے شکر کرو فضل رب ہے یہ رمضان کا مہینہ بڑا برکتوں کا ہے فضل کی جاتے ملتے ہیں ہر روزہ دار کو کو دیکھتا ہر دن پر بربتا ہے رمضان رمضان رمضان رمضان رمضان رمضان رمضان رمضان رمضان رمضان