
Genre: naat, nasheed, madihType: nasheedComposer: Traditional
Story & Cultural Context
'Wah Kya Judo Karam' is a celebrated Urdu Naat written by the 19th-century Islamic scholar Imam Ahmad Raza Khan Barelvi (Ala Hazrat). The poem praises the boundless generosity, grace, and spiritual elevation of the Prophet Muhammad.
← Browse

AI-Enriched95%
Credits
ComposerTraditional
LyricistAhmad Raza Khan Barelvi
Story & Cultural Context
'Wah Kya Judo Karam' is a celebrated Urdu Naat written by the 19th-century Islamic scholar Imam Ahmad Raza Khan Barelvi (Ala Hazrat). The poem praises the boundless generosity, grace, and spiritual…
Titles in Other Languages
العربيةواہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
EnglishWhat Generosity and Grace is Yours, O King of Batha
Lyrics
روز و شب جوش پہ رحمت کا ہے دریا تیرا صدقہ اس جال سخاوت پہ ہے منگتا تیرا کہ ہاتھ اٹھے بھی نہ تھے مل گیا صدقہ تیرا واہ کیا جود و کرم ہے شہبتہا تیرا نہیں سنتا کہ نہیں مانگنے والا تیرا وہ حقیقت تیری جبریل جسے نہ جانے پھر بھلا کیسے کوئی رتبہ تمہارا جانے کہ بس اسے جانے خدا ہم تو یہ کہنا جانے فرش والے تیری شوقت کا علو کیا جانے خسر و عرش پہ اُڑتا ہے فرہرا تیرا یا رسول اللہ یا حبیب اللہ نہ کوئی تجھ سا سخی ہے نہ کوئی مجھ سا غریب ایک نظر تیرے جگہ اے میرے ہاپی دانسیب کہ قرب حق اسے کو ملا ہے جو ہوا تجھ سے قریب میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہوں مالک کے حبیب یعنی محبوب و مخب میں نہیں میرا تیرا جائے خلدمیں ہے آقا کی امت جتنی تیری رحمت کو عطا ہو گئی وسطت کتنی کہ تیرے ہوتے تو میں کیوں فکر کروں میں اپنی ایک میں کیا میرے اسیا کی حقیقت کتنی مجھے سو لاکھ کو کافی ہے اشارہ تیرا یا رسول اللہ یا حبیب اللہ اپنے سرکار کی مانگتوں کی تو ہسدہ تو نکال ہم تیرے در کے فقاری ہیں ہمیں آپ سبحال آقا تیرا در چھوڑ کہ ہم جائیں کہاں لے کہ سوال تیرے ٹکروں پہ پلیں غیر کی ٹھوکر پہ لا ڈال چھٹکی آقا اے کہاں چھوڑ کے صدقہ تیرا جاہتیں ہو کے بڑھائیں تیری آجاتیں جمیم تم اوبید اپنے رزاقی کرو تکلی تو بقیم کہ تم بے سرکار ملاوں نا غصیلہ یہ وقتی تم بے سرکار ملا تا ہے رضا اسے کو شفی جو میرا غوث ہے اور لادلہ بیٹا تیرا جو میرا غوث ہے اور لادلہ بیٹا تیرا