
Genre: nasheed, naatYear: 2017Type: nasheed
Story & Cultural Context
'Madine Ka Musafir' is an Urdu Naat rendered by Ghulam Mustafa Qadri and released under the Heera Gold label. It expresses profound longing, devotion, and love for the Holy Prophet Muhammad (PBUH) and the sacred city of Madinah.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
LabelHeera Gold
Story & Cultural Context
'Madine Ka Musafir' is an Urdu Naat rendered by Ghulam Mustafa Qadri and released under the Heera Gold label. It expresses profound longing, devotion, and love for the Holy Prophet Muhammad (PBUH) and…
Titles in Other Languages
العربيةمدينے کا مسافر
EnglishTraveler to Madinah
Lyrics
مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ کا سفر ہے اور میں نم دیدا نم دیدا جب ہی افسردا افسردا قدم لغزیدہ لغزیدہ مدینہ کا سفر ہے اور میں نم دیدا نم دیدا جب ہی افسردا افسردا قدم لغزیدہ لغزیدہ چلا ہونک مجرم کی طرح میں جانب تیبہ چلا ہونک مجرم کی طرح میں جانب تیبہ نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ مدینہ کا سفر ہے اور میں نم دیدا نم دیدا جب ہی افسردا افسردا قدم لغزیدہ لغزیدہ کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ کہاں میں اور کہاں یہ راست پیچیدہ پیچیدہ کہاں میں اور کہاں یہ راست پیچیدہ پیچیدہ مدینہ کا سفر ہے اور میں نم دیدا نم دیدا جب ہی افسردا افسردا قدم لغزیدہ لغزیدہ کہاں میں اور کہاں اس رازہ اقدس کا نظارہ کہاں میں اور کہاں اس رازہ اقدس کا نظارہ نظر سے سمت اٹھتی ہے مگر دزیدہ دزیدہ مدینہ کا سفر ہے اور میں نم دیدا نم دیدا جب ہی افسردا افسردا قدم لغزیدہ لغزیدہ مدینہ جا کے ہم سمجھے تقدس کس کو کہتے ہیں مدینہ جا کے ہم سمجھے تقدس کس کو کہتے ہیں ہوا پاکیدہ پاکیدہ فضا سنجیدہ سنجیدہ ہوا پاکیدہ پاکیدہ فضا سنجیدہ سنجیدہ مدینہ کا سفر ہے اور میں نم دیدا نم دیدا جب ہی افسردا افسردا قدم لغزیدہ لغزیدہ بسارت خو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے بسارت خو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نہ دیدا نہ دیدا مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نہ دیدا نہ دیدا مدینہ کا سفر ہے اور میں نم دیدا نم دیدا جب ہی افسردا افسردا قدم لغزیدہ لغزیدہ وہی اقبال جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر وہی اقبال جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر فراق تیبا میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ فراق تیبا میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ مدینہ کا سفر ہے اور میں نم دیدا نم دیدا جب ہی افسردا افسردا قدم لغزیدہ لغزیدہ