
Genre: nasheed, naatYear: 2016Type: nasheedComposer: Amir Khusrau
Story & Cultural Context
This track is a Naat recited by Dr. Hafiz Nisar Ahmed Marfani, featuring the classic Persian and Braj Bhasha poem 'Zehaal-e-Miskeen Makun Taghafult' originally written by the famous Sufi poet Amir Khusrau in praise of the Prophet Muhammad.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
ComposerAmir Khusrau
LyricistAmir Khusrau
LabelHeera Gold
Story & Cultural Context
This track is a Naat recited by Dr. Hafiz Nisar Ahmed Marfani, featuring the classic Persian and Braj Bhasha poem 'Zehaal-e-Miskeen Makun Taghafult' originally written by the famous Sufi poet Amir…
Titles in Other Languages
العربيةزحال مسكين مكن تغافل
EnglishDo Not Ignore My Poor Condition
Lyrics
آتشِ عشق کلیجے میں دبی رہتی ہے تم نے جس دل سے لگائی ہے لگی رہتی ہے وہی آبلے ہیں وہی جلن کوئی سوز دل میں کمی نہیں جو لگا کے آگ گئے وہ تم بھلگی ہوئی ہے بجھی نہیں تیری یاد ایسی ہے بابا فاہم فاص مرگ بھی نہ ہوئی جدا تیری یاد میں غم مٹ گئے تیری یاد دل سے مٹی نہیں سے حال مسکی میں کن تھا غافل دورائے نہ بناے بتیاں سے حال مسکی میں کن تھا غافل دورائے نہ بناے بتیاں کتاب ہجرہ نہ دارم جانا لے ہوں کاغذ لگائے چھتیاں سے حال مسکی میں کن تھا غافل دورائے نہ بناے بتیاں سے حال مسکی میں کن تھا غافل سکی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیان شبان ہجرہ طرح سے چونگ زلب بروز وصلش چونگ دے کوتا سکی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیان سے حال مسکی میں کن تھا غافل دورائے نہ بناے بتیاں سے حال مسکی میں کن تھا غافل سے حال مسکی زب حال مسکی چونش شمیں سوزاں چونشیں نہایرا ہمیشہ گریا باعشق آمام نہ نید نینا نہ انگ چانا نہ نید نینا نہ انگ چانا نہ نید نینا نہ انگ چانا نہ آپ آوے نہ بھیجے بتیاں سے حال مسکی میں کن تھا غافل دورائے نہ بناے بتیاں سے حال مسکی میں کن تھا غافل سکی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیان یکا یک دل دو چشم جادو بسد فرے بمبا پرد تسکی کسے پڑی ہے جو جاسوں ناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں سے حال مسکی میں کن تھا غافل دورائے نہ بناے بتیاں سے حال مسکی زب حال مسکی بغشق روزے بسال دل پر کے داد مارا فرے بے خوصروں سفید ملک ورائے راکھوں سفید ملک ورائے راکھوں جو جائے پہنچوں پیارے کی خطیاں سے حال مسکی میں کن تھا غافل دورائے نہ بناے بتیاں سے حال مسکی میں کن تھا غافل سکی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیان