Skip to main content
Mar Jayein Gay Mola Kay Azadar Rahein Gay cover art

Mar Jayein Gay Mola Kay Azadar Rahein Gay

by Hassan Ali

Album: Nasheeds

Duration: 9:29

Genre: nasheedType: nasheed

Story & Cultural Context

This track appears to be a devotional nasheed by Hassan Ali, likely praising or mourning for a religious figure, reflecting themes common in Urdu Islamic music. It may hold significance in spiritual gatherings or personal reflection, though specific details are not verified.

← Browse
Mar Jayein Gay Mola Kay Azadar Rahein Gay

Mar Jayein Gay Mola Kay Azadar Rahein Gay

AI-Enriched70%
Genre
Instruments
vocal-only

Credits

LabelWithout label

Story & Cultural Context

This track appears to be a devotional nasheed by Hassan Ali, likely praising or mourning for a religious figure, reflecting themes common in Urdu Islamic music. It may hold significance in spiritual…

Titles in Other Languages

EnglishWe Will Die as Mourners of the Master

Lyrics

یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین وعدہ ہے با خدا یا فاتم ذرا مر جائیں گے مولا کے عزادار رہیں گے ہمارے مذہب کے وفا آئے رہیں گے مر جائیں گے مولا کے عزادار رہیں گے عزادار عزادار مر جائیں گے مولا کے عزادار رہیں گے بانی کفن سر پہ جلوسوں میں چلے مولا تیرا پرچم کبھی جھکنے نہیں دیں گے عباس کے صدقے میں علم لائے رہیں گے مر جائیں گے مولا کے عزادار رہیں گے ہے غم نظری آئے گا پس بلشِ عزادہ جب ماہِ عزا آئے گا یا فاتم عزراہ مر جائیں گے ہمیشہ ہمیں غمخوار رہیں گے مر جائیں گے مولا کے عزادار رہیں گے حاضر ہیں غلام آپ کی یہ بات بتانی جائیں گے عزاداروں میں ہم شب وجلانی آشور کے شب رات پر بھی آئے رہیں گے مر جائیں گے مولا کے عزادار رہیں گے یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین مر جائیں گے مولا کے عزادار رہیں گے اے حلمن کی صدا سن کے نہ بیٹھیں گے گھروں میں ہم جان لٹانے کے لیے پہلی صفوں میں تیار تھے تیار تھے تیار رہیں گے مر جائیں گے مولا کے عزادار رہیں گے کربلا یا زہرہ حبیبِ بیرِ مزاہے جو آیا حسین دور یا کوئی بھی ہو نہ سے زنگا تیری چاہت میں جیت آئے رہیں گے مر جائیں گے مولا کے عزادار رہیں گے مر جائیں گے مولا کے عزادار رہیں گے یہ آسو تو ہے فاطمہ زہرہ کی امانت ہم روکے کبھی بھی بھیج سے مانگیں گے نہ جنت بس بے وہ بلا تیرے طلبگار رہیں گے مر جائیں گے مولا کے عزادار رہیں گے عزادار عزادار مر جائیں گے مولا کے عزادار رہیں گے بھولیں گے نہ باز اور اکبر کی کہانی ہیں سارے مقام آج بھی آنکھوں میں ہماری ہم لوگ حسین آپ کے سن آئے رہیں گے مر جائیں گے مولا کے عزادار رہیں گے یاد آئے گی روتے ہوئے مسکون سکینہ سجاد سے رو رو کی جو کہتی تھی اے بھی یا شام تلک نیلے یہ رخصت آئے رہیں گے مر جائیں گے مولا کے عزادار رہیں گے زی شان و حسن یہی پہچان ہماری یہ مجلس شبیر ہی ہے جان ہماری ماتم کے لیے ہاتھ یہ تیار رہیں گے مر جائیں گے مولا کے عزادار رہیں گے وعدہ ہے با خدا یا فاتح مزہ رہا مر جائیں گے مولا کے عزادار رہیں گے عزادار رہیں گے