
Genre: nasheed, naatType: nasheed
Story & Cultural Context
This track by Hassan Ali appears to be a devotional nasheed in Urdu, possibly expressing themes of faith and devotion. It is part of his singles, suggesting a personal or standalone release without specific historical context.
← Browse

AI-Enriched60%
Credits
LabelWithout label
Story & Cultural Context
This track by Hassan Ali appears to be a devotional nasheed in Urdu, possibly expressing themes of faith and devotion. It is part of his singles, suggesting a personal or standalone release without…
Titles in Other Languages
EnglishI Am The First Mourner
Lyrics
حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسدار حائسد آؤ میں بتاتا ہوں تمہیں اپنی فضیلت عابد ہوں میں کیوں اور کیا میری عبادت کیوں مجھ کو ملی آپ بنائے غم کی قیادت توحید کے دربار میں تسلیم یہ کام ہی ہے فخر میرا یہ کہ میں ہوں پہلا عزادار مقتل ہو کے زندہ ہو کے بازار کے دربار یہ بار گرا مجھ پہ میں نے ہی اٹھایا اس غم نے مجھے پہلا عزادار منایا غم نامہ میرا دھول ہے اور خاک ہے دستار میں پہلا عزادار ہوں میں پہلا عزادار میں پہلا عزادار تھا میں پہلا عزادار ہتھیار تو میرے لیے بھی تھے مجھ کوں تھے تیر بھی تلوار بھی کھنجر بھی تھے مجھ کوں عزبر سے آیا میں نے جہر میں بازار پہلا عزادار تھا میں پہلا عزادار کوئی دا میرے لیے میں آج بھی کہہ گریہ کوئی دا میرے لیے میں خاتم کہہ گریہ عزبر سے مجھ کوں ملا ہے خونے با وفا پہلا عزادار تھا میں پہلا عزادار یہ غم بلا خواب ہے میں خواب کتابی عزبر سے ڈالی گئی ان پیروں میں زنجیر عزبر سے گرتے ہو کے گرا میں پہلا عزادار تھا میں پہلا عزادار بازار میں دین آنکھوں سے رونا تھا مجھے کون یا شام کے دربار میں رونا تھا مجھے کون عزبر سے مجھے آئی گئی دلزا میں پہلا عزادار تھا میں پہلا عزادار میں پہلا عزادار تھا میں پہلا عزادار میں نے برداش کی ہے شام غریبہ دیکھا ہے سرے نیز سرے شاہ شہیدہ عزبر سے ہے گریہ میرا اتبار پہلا عزادار تھا میں پہلا عزادار ہر لطف نبی کو بھی ہسیوں سے کیا ہر غیب چلی ہوں یہ ہر غم سے کیا عزبر سے ہے مفت سے یوں کہ میری رفعت ہے پہلا گوار میں پہلا گوار