
Genre: nasheed, naatType: nasheed
Story & Cultural Context
This track appears to be a nasheed dedicated to Zainab s.a., possibly honoring her life and significance in Islamic history. It may reflect themes of devotion and praise, common in Urdu nasheeds, though specific details are limited.
← Browse

AI-Enriched60%
Credits
LabelWithout label
Story & Cultural Context
This track appears to be a nasheed dedicated to Zainab s.a., possibly honoring her life and significance in Islamic history. It may reflect themes of devotion and praise, common in Urdu nasheeds,…
Titles in Other Languages
EnglishZainab s.a.'s Two Beloved Ones
Lyrics
ثانیِ جاں فرطییا ہیں جوہِ تلوار پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دونوں اکر کرتے تھے یہی شاہبہار پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا تلوار اور پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہ ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکراء آئے دن میں چاہے ذکراء تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی था फिरहाں میں खुद शفر پہ ہی नहीं था फिरहां में जिक्राय थे दोनों का वफरें पहुँचे महर कनारे काज़े हातों के दोनों कार एक दूसरे को दोही था फिरहां में खुद शफर पहे ही नहीं था फिरहां में जिक्राय थे दोनों का वफरें पहुँचे महर कनारे काज़े हातों के दोनों कार एक दूसरे को दोही था फिरहां में खुद शफर पहे ही नहीं था फिरहां में जिक्राय थे दोनों का वफरें पहुँचे महर कनारे काज़े हातों के दोनों कार एक दूसरे को दोही था फिरहां में खुद शफर पहे ही नहीं था फिरहां में जिक्राय थे दोनों का वफरें पहुँचे महर कनारे काज़े हातों के दोनों कार एक दूसरे को दोही था फिरहां में खुद शफर पहे ही नहीं था फिरहां में जिक्राय थे दोनों का वफरें पहुँचे महर कनारे काज़े हातों के दोनों कार एक दूसरे को दोही था फिरहां में खुद शफर पहे ही नहीं था फिरहां में जिक्राय थे दोनों का वफरें पहुचे महर कनारे काज़े हातों के दोनों कार एक दूसरे को दोही था फिरहां में खुद शफर पहे ही नहीं था फिरहां में जिक्राय थे दोनों का वफरें पहुचे महर कनारे काज़े हातों के दोनों कार एक दूसरे को दोही था फिरहां में खुद शफर पहे ही नहीं था फिरहां में जिक्राय थे दोनों का वफरें पहुचे महर कनारे काज़े हातों के दोनों कार एक दूसरे को दोही था फिरहां में खुद शफर पहे ही नहीं था फिरहां में जिक्राय थे दोनों का वफरें पहुचे महर कनारे काज़े हातों के दोनों कार एक दूसरे को दोही था फिरहां में खुद शफर पहे ही नहीं था फिरहां में जिक्राय थे दोनों کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہے ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکرائے تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہے ہی نہیں تھا پھرہاں میں ذکرائے تھے दोनों کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار ایک دوسرے کو دوہی تھا پھرہاں میں خود شفر پہے ہی नहीं تھا फिरہां में जिकराये थे दोनों का वफर पहुंचे महर कनारे काजे हातों के दोनों कार एक दूसरे को दोही था फिरहां में खुद शफर पहे ही नहीं था फिरहां में जिक्राय थे दोनों کا وفیر پہنچے مہर کنارے کازے ہاتھوں کے दोनों कार एक दूसरे کو दोही था फिरहां میں خود شفر پہے ہی نہیں था फिरहां میں ذکرائے تھے دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں کار एक दूसरे کو दोही था फिरहां میں خود شفر پہے ही نہیں था फिरहां میں ذکرائے थे دونوں کا وفیر پہنچے مہر کنارے کازے ہاتھوں کے دونوں कार ایک دوسرے کو دوही था پھرहां میں खुद शफर पहे ही नहीं था फिरहां में जिक्राये थे