
Genre: nasheedYear: 2020Type: nasheed
Story & Cultural Context
Ik Khaab Sunaun is a nasheed by Hassan Ali, blending Urdu and English, likely focusing on themes of dreams and spirituality common in Islamic music. It is part of his singles, emphasizing ethical audio without instrumental music.
← Browse

AI-Enriched70%
Genre
Instruments
vocal-only
Credits
LabelWithout label
Story & Cultural Context
Ik Khaab Sunaun is a nasheed by Hassan Ali, blending Urdu and English, likely focusing on themes of dreams and spirituality common in Islamic music. It is part of his singles, emphasizing ethical…
Lyrics
هل من ناصر ينصرنا؟ لبّيك يا حسين ایک خواب سناؤں کرب کسی کی روداد بتاؤں ہمراہ فرشتے تا حد نظر تھے ہر سمت ولی تھے اور پیغمبر تھے جی کرتا تھا ایک پل بھی سجدے سے سینہ اٹھاؤں ایک خواب سناؤں میرا پہلا سجدہ تھا خاک نجف پہ بہلول اور موسم دیکھے ایک صفحے کچھ حال سنایا شکو کے سہارے کبھی پڑے قصیدے اور گوجے نعرے حسرت تھی یہی مولا کو میں ان کی مدحہ سناؤں ایک خواب سناؤں میرے ہر سجدہ بخشش کا وسیلہ گر مولا علی کا اور مسجد کوفا تھی مسجد سہلہ اس نور کی حد میں پھر دیکھی تجلی سامرہ بلد میں جو دور کے منظر دیکھے ایک پل بھی بھول نہ پاؤں ایک خواب سناؤں پھر میں نے خود کو میراج پہ پایا جب نجوذ بےدل میں کربل آیا ایسا کوئی منظر دنیا میں کہاں تھا مخلوق بھی تھی اور خالق بھی یہاں تھا اللہم علیہ البیک کے ہر بل میں صدا دوراؤں ایک خواب سناؤں پہنچا دہلیز آباس جلی پہ سب حاجت کے دی بے دست سخیسے ایک مشک تھی جس میں کچھ تیر گھلے تھے مصروفِ الہی سب چھوٹے بڑے تھے جی چاہتا تھا اس در پہ میں ہاتھ پنے کٹواوں ایک خواب سناؤں بین الحرمین میں پرنور فضا تھی ہر سونہ آہاتہ آواز بکاتی بڑھنا تھا مجھے اب تقدیر کی جانے توہید کے مسکرے شبیر کی جانے یہ سوچ رہا تھا کیسے قدموں سے شکے جاؤں ایک خواب سناؤں حائر پہ السلام وعليك يا عبا عبد الله حائر پہ السلام وعليك يا ابن رسول الله جب سو میں آیا شبیر کا روضہ کب ہاتھوں پہ اور خود پہ کابو تھا ناہن کے لیے اب الفاظ کہاں تھے اب میرے آنسوں ہی میرے ثبوت تھے جی چاہتا تھا یہ میرا رو روگ یہی مر جاؤں ایک خواب سناؤں کرتا رہا سجدے خاک اتغر پہ اس ذات وی مولا کازم کے در پہ انوار کی بارشیں تھی ہر گمبد میں پھر گزر کئی دل کمار مشہود میں اس راہ کا ذرہ ذرہ پلکوں سے چومتا جاؤں ایک خواب سناؤں حسرت ہے یعوس کی آرزو کی تعبیر ملے اب ایک خواب کوہر کی ایک خواب ریحوں پہ مرنے سے پہلے زیرا کی لہد پہ دنب کی لہد پہ دونوں کی لہد پہ جا کے عشقوں کے دیپ جلاؤں ایک خواب سناؤں اے خدا میرے یہ خواب پورا فرما اللہ یعمی