Skip to main content
Lo Madinay Ki Tajali Se (Live) cover art

Lo Madinay Ki Tajali Se (Live)

by Hafiz Ahmed Raza Qadri

Album: Nasheeds

Duration: 9:17

Genre: nasheed, naatYear: 2017Type: nasheedComposer: Traditional

Story & Cultural Context

A renowned live performance of the classic Urdu Naat 'Lo Madinay Ki Tajalli Se' by Hafiz Ahmed Raza Qadri during the 'Ramzan Mein Bol' television transmission in 2017. The lyrics, penned by the eminent Sufi poet Beedam Shah Warsi, beautifully describe the spiritual illumination and peace associated…

← Browse
Lo Madinay Ki Tajali Se (Live)

Lo Madinay Ki Tajali Se (Live)

Nasheeds 9:17 2017
AI-Enriched85%
Instruments
vocal-only

Credits

ComposerTraditional
LyricistBeedam Shah Warsi
ProducerBOL Network
LabelBOL Network

Story & Cultural Context

A renowned live performance of the classic Urdu Naat 'Lo Madinay Ki Tajalli Se' by Hafiz Ahmed Raza Qadri during the 'Ramzan Mein Bol' television transmission in 2017. The lyrics, penned by the…

Titles in Other Languages

EnglishBehold, the Splendor of Madinah

Lyrics

لو مدینے کی تجلی سے سائے ہوئے ہیں دل کو ہم مطلعے انبار بنائے ہوئے ہیں کشتیہ اپنی کنارے سے سائے ہوئے ہیں
ارے کیا وہ ڈوبے جو محمد کے ترائے ہوئے ہیں حاضر و نازر نور و بشر غیب کو چھوڑ شکر کرو تیرے غیب کو چھپائے ہوئے ہیں
اور نہ مانے سیتھ ابو بکر ہوئی ہے نہ مانے سیتھ ابو بکر بگڑتا ہے وہ تو پہلوں نے سلائے ہوئے ہیں قبر کی نین سے سنا کوئی آسان
ہم تو محشر میں انہیں دیکھنے آئے ہوئے ہیں شرم سیاس سے نہیں ساز آیا یا یہ بھی کیا کم ہے تیرے شہر میں آئے ہوئے ہیں
بوسائی سے سینے روشن ہے خود نہیں نائے یہ مہمان بلائے ہوئے ہیں لوگ پوچھتے تھے کہ مدینہ جا کے ہم کریں کیا مدینہ جا کے کوئی عبادت بتائیں آپ ماشاءاللہ آپ کا تو مدینہ پاک میں گھر ہے الحمدللہ تو لوگ پوچھتے ہیں کہ مدینہ جا کے ہم کیا کریں تو یہ آج آپ کے سٹیٹ فارم سے آپ بھی اور میں بھی بتلا دیتے ہیں کرنا کیا ہے کہ وارا فارنا لکرک کا قصہ مولیں نظر ہم بند قذرہ پہ جمعے ہوئے ہیں
تیری رحمت تو ہے تیری رحمت تو ہے ہم لوگ کو کفر کے دور میں ایمان بچائے ہوئے ہیں
لوگ مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں دل کو مت لائے انبار بنائے ہوئے ہیں
کیوں نہ بناتے آماد کا پھاری گول سے سیر اب تو میزان پہ سرکار بھی آئے
لوگ مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں دل کو مت لائے انبار بنائے ہوئے ہیں